وزیراعلیٰ کی آمد پر سیکیورٹی کے باعث عوام کے لیے روٹ بند کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ خود گاڑی سے اتر آئے اور پولیس اہلکاروں کو راستہ کھولنے کی ہدایت کی، تاہم روٹ نہ کھولے جانے پر وہ سڑک پر ہی بیٹھ گئے۔
وزیراعلیٰ اس وقت تک سڑک پر موجود رہے جب تک عوام کے لیے راستہ نہیں کھول دیا گیا۔
اس موقع پر سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس سے کہا کہ میں عمران خان کا عوامی وزیراعلیٰ ہوں، میری وجہ سے کسی کے لیے سڑکیں بند نہ کریں۔ پہلے میری عوام جائے گی، اس کے بعد میں جاؤں گا۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا لاہور میں شہید کارکن اشتیاق کے گھر بھی پہنچے۔ کلر کہار ریسٹ ایریا پہنچنے پر وزیراعلیٰ نے اپنی سیکیورٹی پر مامور پنجاب پولیس کے اہلکاروں سے مکالمہ کیا اور انہیں واپس جانے کی ہدایت کی۔
سہیل آفریدی نے پولیس اہلکاروں سے سوال کیا کہ کوئی اور کام بھی کرتے ہو یا صرف پی ٹی آئی پر ہی نظر ہے؟
پولیس افسر نے جواب دیا کہ اہلکار ان کی حفاظت کے لیے وہاں موجود ہیں، جس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ میری حفاظت اللہ کرتا ہے، تم لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو میں کل مروں یا آج ہی مر جاؤں۔
وزیراعلیٰ نے شکوہ کیا کہ پولیس اہلکار ایک بھی عوامی گاڑی کو آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔ اس موقع پر سہیل آفریدی نے پروٹوکول کے لیے آنے والے افسران کو بھی واپس جانے کی ہدایت کی۔







