امریکی فوج کے مطابق ڈرون نے کیلیفورنیا کے ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر منعقد ہونے والی گیم آف ڈرونز 26-2 نمائش کے دوران یہ کارنامہ انجام دیا۔ ڈرون نے پرواز کے دوران تقریباً 300 میل کا فاصلہ طے کیا اور سابقہ عالمی ریکارڈ کو 50 منٹ سے پیچھے چھوڑ دیا۔

اس کامیابی کا حیران کن پہلو صرف طویل پرواز نہیں بلکہ ڈرون کی غیر معمولی تیز رفتار تیاری بھی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ڈرون کا ڈیزائن کمپیوٹر پر مبنی ایک سافٹ ویئر اور پرامپٹس کی مدد سے 10 منٹ سے بھی کم وقت میں تیار کیا گیا۔

اس کے بعد موبائل کنٹینرائزڈ فیکٹری میں کمرشل تھری ڈی پرنٹرز استعمال کرتے ہوئے ڈرون تیار کیا گیا اور اسے محض 24 گھنٹوں کے اندر پرواز کے لیے تیار کرلیا گیا۔

ڈرون میں پنسلوانیا کے ٹوبیہانا آرمی ڈپو میں تیار کیے گئے دو برش لیس ڈائریکٹ کرنٹ موٹرز نصب کیے گئے تھے، جب کہ بیٹری ایک صنعتی شراکت دار نے فراہم کی۔ مکمل ڈرون کو موقع پر ہی صرف تین افراد پر مشتمل ٹیم نے اسمبل کیا۔

امریکی فوج کے مطابق اس تجربے کا مقصد صرف ایک پرواز کا ریکارڈ قائم کرنا نہیں بلکہ ڈرونز کے لیے اہم پرزوں کی ملکی سطح پر تیاری کی صلاحیت کو بھی آزمانا تھا۔

اس منصوبے کے تحت امریکی فوج اپنی آرگینک انڈسٹریل بیس میں چھوٹے ڈرونز کے اہم اجزا تیار کرنے کی صلاحیت بڑھا رہی ہے تاکہ حساس دفاعی پرزوں کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کم کیا جاسکے۔

امریکی فوج نے حال ہی میں ٹوبیہانا آرمی ڈپو میں برش لیس موٹرز کی نئی پروڈکشن لائن شروع کی تھی، جس کا افتتاح 30 جون کو ہوا۔ اس کے چند ہی ہفتوں بعد اسی لائن سے تیار ہونے والے موٹرز نے عالمی ریکارڈ بنانے والے ڈرون کو طاقت فراہم کی۔

امریکی فوج دیگر اہم اجزا کی تیاری بھی مختلف مراکز پر منتقل کر رہی ہے۔ الینوائے کے راک آئی لینڈ آرسنل - مشترکہ مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی سینٹر میں ڈرون کے فریم جب کہ ٹیکساس کے ریڈ ریور آرمی ڈپوٹ میں بیٹریوں کی تیاری کی جارہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق گیم آف ڈرونز مظاہرے نے یہ بھی دکھایا کہ فوج، نجی صنعت اور دیگر شراکت دار مل کر انتہائی کم وقت میں نئے ڈرون سسٹمز تیار اور آزما سکتے ہیں۔

امریکی فوج کے چھوٹے یواےایس کے لیے اعلی درجے کی مینوفیکچرنگ لیڈ جون اسٹرزیلیک نے اس کامیابی کو ٹوبیہانا اور آرمی میٹیریل کمانڈ کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تجربے نے فوج اور صنعت کے درمیان تعاون کی صلاحیت کو ظاہر کیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایسے تجربات کا مقصد حقیقی حالات میں دفاعی ٹیکنالوجی کو آزمانا اور مستقبل کی جنگی ضروریات کے لیے ڈرونز کے اہم پرزوں کی تیاری اور سپلائی کو زیادہ تیز، محفوظ اور خود انحصار بنانا ہے۔