میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو اس عہدے پر لانے میں بھی مراد سعید کا کردار تھا۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان سہیل آفریدی کو ذاتی طور پر جانتے تک نہیں تھے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات کیے اور اس کے مطالبات کے مطابق پیشکشیں بھی کیں، تاہم بات چیت کامیاب نہ ہوسکی۔

انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور مراد سعید کو قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ رہنما سیاسی شخصیات کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرنے اور معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔

وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو فی الحال کوئی نئی ذمہ داری نہیں دی جارہی۔ صوبے کے لیے نیا انتظامی سیٹ اپ سوچ سمجھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی اور خیبرپختونخوا حکومت کو کنٹرول کرنے سے متعلق بیانات رانا ثنا اللہ کے دعووں پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔