مری میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ شرپسند عناصر پاکستان اور آزاد کشمیر کو لڑانا چاہتے تھے، تاہم انہیں شکست فاش ہوئی۔ آزاد کشمیر کے عوام جانتے ہیں کہ انہیں کیا چاہیے اور وفاق و پنجاب میں کیا کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے تعمیر و ترقی کو ووٹ دیا، تاہم الیکشن ہمارا بڑا ٹیسٹ نہیں تھا بلکہ اب اصل امتحان شروع ہوگیا ہے۔ حکومت بنتے ہی پہلے دن سے کشمیر کے لیے کام شروع کرنا ہوگا، پروٹوکول اور دعوتوں سے لطف اندوز ہونے کا وقت نہیں ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ جدید پاکستان کا ایک بانی ہے اور اس کا نام نواز شریف ہے۔ مسلم لیگ ن کے خلاف جتنی سازشیں ہوئی ہیں شاید ہی کسی دوسری جماعت کے خلاف ہوئی ہوں، ہمارے قائدین نے مشکل مراحل کا سامنا کیا۔

انہوں نے کہا کہ 2021 کے انتخابات میں جب وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو مسلم لیگ ن کو 17 جب کہ پی ٹی آئی کو 3 نشستیں ملیں، لیکن نتائج کو الٹا دیا گیا۔ اب مسلم لیگ ن نے اپنی اکثریت واپس حاصل کرلی ہے اور ان لوگوں کو بہترین جواب مل گیا ہے جو کہتے تھے کہ ن لیگ کمزور یا ختم ہونے والی ہے۔

مریم نواز نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں اکثریتی جماعت نہ ہونے کے باوجود ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دی، لیکن افسوس کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی نے دھاندلی کے جھوٹے الزامات عائد کیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں جیتی تو دھاندلی کی بات نہیں کی، آزاد کشمیر میں ہار گئی تو دھاندلی کا الزام لگا دیا۔

انہوں نے پیپلز پارٹی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ 17 سال سے جہاں ان کی حکومت ہے وہاں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، اس لیے وہ آزاد کشمیر میں سڑکیں بنانے کا وعدہ نہیں کرسکتے۔ بسوں کا وعدہ بھی اس لیے نہیں کرسکتے کہ اپنے لوگوں کو بسیں نہیں دیں، اور اگر دی ہیں تو وہ بھی ٹوٹی ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جب میں وزیراعظم تھا تو ڈالر 100 روپے کا تھا، اس کے بعد ڈالر کہاں سے کہاں چلا گیا: نواز شریف

مریم نواز نے مزید کہا کہ صفائی کے نظام کا وعدہ بھی اس لیے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کے پورے صوبے میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، جب کہ وہاں کے لوگ پنجاب آتے ہیں تو پنجاب میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی تعریف کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت جوشِ تقریر میں یہ بھول گئی کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور انتظامیہ ان کی اپنی تھی۔ آزاد کشمیر کے صدر، وزیراعظم، پولیس، انتظامیہ اور عملہ ان کے پاس تھا، اس لیے دھاندلی کے الزامات کسی دوسرے پر لگانے سے پہلے تھوڑی منطق کا خیال رکھنا چاہیے۔