کراچی میں غزہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے گزشتہ دنوں ایک تاریخی تحریک چلائی جو اب بھی جاری ہے۔ ہمارے کارکن پٹرولیم لیوی کے خلاف پوری قوم کی نمائندگی کرتے رہے ہیں اور ہم اپنی تحریک مزید طاقت کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کو اہل فلسطین نے ایک بڑی طاقت کو للکارا اور فلسطینیوں نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ اہل حریت اپنے ایمان، جوش اور جذبے سے بڑی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عسکری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں شکست کے بعد امریکا اور اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا، جب کہ مسلم حکومتوں کی بے حسی کے باعث اسرائیل کو حمایت حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ تین سال سے اسرائیل مسلسل فلسطینی بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں۔ ان کے بقول جنگ بندی کو ایک سال گزرنے کے باوجود اس عرصے میں بھی 1450 فلسطینی شہید کیے گئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسرائیل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا بھر کے صہیونیوں کی حمایت حاصل ہے، جب کہ اسرائیل یہ کہتا ہے کہ وہ دنیا کی کسی عدالت کے فیصلے کو نہیں مانتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں 81 فیصد نوجوان اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایمان کی طاقت ہے جس نے پوری دنیا میں فلسطینیوں کے لیے ہمدرد پیدا کیے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان معاہدہ خوش آئند ہے اور ایران، بنگلہ دیش، قطر، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو بھی مکہ معاہدے میں شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ امت مسلمہ کی ترجمانی کے لیے ہے تو اس کا پہلا کام فلسطینیوں کی آزادی ہونا چاہیے۔ اگر فلسطین میں اسرائیل کے مظالم جاری ہیں تو پھر اس معاہدے کا کیا فائدہ ہے؟
حافظ نعیم الرحمان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک اسرائیل ایک ریاست نہیں بلکہ صہیونیوں کی جانب سے مسلط کردہ نظام ہے، جسے وہ تسلیم نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ پھر کشمیر میں بھارتی قبضے کو بھی تسلیم کر لیا جائے۔ حکمرانوں کو اپنی تقاریر میں پاکستانی عوام اور قائداعظم کی پالیسی کو سامنے رکھ کر بات کرنی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا بنایا ہوا ’پیس بورڈ‘ آج کہاں ہے؟ ان کے بقول جنگ بندی کے باوجود ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو بم فراہم کرنے کے لیے 2.8 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے، جب کہ اقوام متحدہ بھی ان کے بقول امریکا کے زیر اثر کام کر رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دنیا بھر میں اسرائیل اور اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی غلامی کرنے والے حکمرانوں کو بھی اب ہٹانا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے حماس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے پاس ایمان کی طاقت ہے اور وہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق حماس اسلام کی سربلندی اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کی تحریک چلا رہی ہے اور اس کے مقاصد بہت اعلیٰ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون سے جماعت اسلامی نے 10 ارب روپے سے زائد کی امداد غزہ بھجوائی ہے، جب کہ عنقریب ’بنو قابل‘ پروگرام کو غزہ تک توسیع دی جا رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے، تاہم غزہ کو بھی نہیں بھولا گیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ رواں ہفتہ فلسطینیوں اور اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا، جبکہ 7 اکتوبر کے بعد پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر مسلم ممالک کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کو فلسطینیوں کے تحفظ اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔







