اس سلسلے میں سیکرٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے نوٹیفکیشن کو ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری کی بنیاد بنایا گیا ہے، اسی میں واضح کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی کنٹریکٹ پر خدمات حاصل کرنے کی اجازت محض ’’Enabling in Nature‘‘ یعنی سہولت فراہم کرنے والی ہے۔ اسے کسی ادارے پر لازمی یا پابند کرنے والا حکم تصور نہیں کیا جائے گا۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق متعلقہ ادارہ اپنی ضرورت، قواعد و ضوابط اور دستیاب وسائل کے مطابق ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں 5 اگست کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈا آئٹم نمبر 16 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کابینہ نے ’وسیع تر عوامی مفاد‘، خصوصی طبی خدمات کے تسلسل، اکیڈمک لیڈرشپ، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن، تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی معیار کو یقینی بنانے کے لیے وائس چانسلر کو ڈاکٹر نگہت شاہ کی جے ایس ایم یو میں 3 سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری پر غور کرنے کی ہدایت کی۔

تاہم خط کے اگلے ہی حصے میں ’غور کرنے‘ کی عبارت عملاً باقاعدہ ہدایت میں تبدیل ہوگئی، جہاں وائس چانسلر کو ڈاکٹر نگہت شاہ کی 3 سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری کے لیے فوری ضروری کارروائی کرنے کا کہا گیا ہے۔

مزید برآں کابینہ کے فیصلے پر ’بلا تاخیر، من و عن‘ عملدرآمد اور کارروائی کی رپورٹ ترجیحی بنیادوں پر محکمہ جامعات و بورڈز کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب اس تقرری کے لیے حوالہ بنائے گئے پی ایم اینڈ ڈی سی کے 19 مئی 2026 کے نوٹیفکیشن کا متن حکومتی ہدایت کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی نے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو 65 سال کی عمر تک ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات خالصتاً کنٹریکٹ کی بنیاد پر حاصل کرنے کی اجازت دی تھی، تاہم ساتھ ہی واضح کیا تھا کہ یہ فیصلہ کسی ادارے کے لیے لازمی نہیں ہوگا۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کی سرکاری ویب سائٹ بھی 19 مئی 2026 کو سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں سے متعلق اس پبلک نوٹس کے اجرا کی تصدیق کرتی ہے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے نوٹیفکیشن میں یہ بھی دوٹوک طور پر درج ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی ایسی تقرری سے مستقل تقرری، سنیارٹی یا ملازمت میں مستقل انضمام کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا، جبکہ اس اقدام سے جونیئر فیکلٹی کی ترقی کے امکانات، کیریئر پروگریشن یا کیڈر اسٹرکچر بھی متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

نوٹیفکیشن کے بعد یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ جب پی ایم اینڈ ڈی سی نے ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار متعلقہ یونیورسٹی پر چھوڑ رکھا ہے تو ایک مخصوص ریٹائرڈ فیکلٹی رکن کی تقرری کا معاملہ صوبائی کابینہ تک کیوں لے جایا گیا؟

مزید یہ کہ کابینہ کی جانب سے ایک مخصوص نام کے لیے فوری کارروائی اور عملدرآمد رپورٹ طلب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ پی ایم اینڈ ڈی سی کا نوٹیفکیشن کسی مخصوص فرد کی تقرری کا حکم نہیں دیتا بلکہ تمام سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں کے لیے عمومی پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر نگہت شاہ کی 3 سالہ تقرری سے جے ایس ایم یو کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ڈاکٹر صبا خان، ڈاکٹر ارم ماجد اور ڈاکٹر میمونہ رحمان کی سنیارٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

یوں ایک جانب پی ایم اینڈ ڈی سی کا نوٹیفکیشن ریٹائرڈ فیکلٹی کی تقرری کو ادارے کی ضرورت اور صوابدید سے مشروط کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب ڈاکٹر نگہت شاہ کی مخصوص تقرری کے لیے صوبائی کابینہ کی ہدایت اور فوری عملدرآمد نے سنیارٹی اور ادارہ جاتی قواعد سے متعلق نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔