عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ دو سال تک قربت بڑھانے کی کوششوں کے بعد پاکستان کی قیادت امریکی کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے نتیجے میں وائٹ ہاؤس تک اپنی رسائی اور روابط کی ممکنہ جانچ پڑتال کے خدشات سے دوچار ہے۔

تاہم عام پاکستانی اس انتخابی نتیجے کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ واشنگٹن میں سیاسی تبدیلی سے مہنگائی کے بحران میں کمی آسکتی ہے، جو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

انتخابات کے بعد رائٹرز سے گفتگو کرنے والے شہریوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی دارالحکومت میں سیاسی تبدیلی کے اثرات جلد پاکستان تک پہنچیں گے۔

کراچی کے رہائشی سجاد علی نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ بامعنی مذاکرات ممکن نہیں اور جاری خونریزی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک امریکی حکومت تبدیل نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امن، معاشی بہتری اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی چاہتے ہیں۔

کراچی ہی کے ایک اور رہائشی عاصم ظفر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ انتخابی نتائج ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

ان کے بقول اس سے اہم پالیسیوں میں تبدیلی آسکتی ہے اور ممکن ہے کہ مسلم ممالک کے خلاف ہونے والی بعض ناانصافیوں کی روک تھام میں بھی مدد ملے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی حکومت اور طاقتور عسکری قیادت کے لیے انتخابی نتائج کہیں زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔

ٹرمپ سے قربت بڑھانے کی پاکستانی کوششوں کو ایران جنگ میں ثالثی کے کردار سے مزید تقویت ملی، جس کے نتیجے میں اسلام آباد کو امریکی انتظامیہ تک قریبی رسائی حاصل ہوئی۔ تاہم اس رسائی سے اب تک کوئی واضح معاشی فائدہ حاصل نہیں ہوسکا، جب کہ ٹرمپ کے قریبی حلقے کے ساتھ اسلام آباد کے معاملات کی امریکی کانگریس میں ممکنہ جانچ پڑتال سے ان فوائد کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے جن کی پاکستانی قیادت توقع کر رہی تھی۔

ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز ہی میں ان سے قربت بڑھانے کی کوششیں شروع ہوگئی تھیں، جس میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر وائٹ ہاؤس تک اسلام آباد کے مرکزی رابطے کا ذریعہ بنے۔ ٹرمپ انہیں متعدد بار اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دے چکے ہیں۔

جون 2025ء میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ظہرانے پر ہونے والی ملاقات غیر معمولی طور پر کسی پاکستانی سویلین عہدیدار کی موجودگی کے بغیر ہوئی، جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے عمل میں عسکری قیادت کا مرکزی کردار نمایاں ہوا۔

اس ملاقات کے بعد آئی ایس پی آر کے مطابق ان ملاقاتوں میں سیکیورٹی کے علاوہ کان کنی، توانائی اور کرپٹو کرنسی کے شعبوں میں تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔

بعد ازاں پاکستان ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا اور انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔ پاکستان نے مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ تنازع ختم کرانے میں کردار ادا کرنے پر ٹرمپ کو اس اعزاز کے لیے نامزد کیا تھا، تاہم نئی دہلی اس دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ امریکی ثالثی نے دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی رکوانے میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔

رواں سال کے اوائل میں ایران جنگ میں ثالثی کے کردار نے اس قربت کو تزویراتی اہمیت بھی فراہم کی۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کیا اور اپریل میں دونوں ملکوں کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی، تاہم بعد ازاں طے پانے والا اسلام آباد معاہدہ جلد ہی غیر مؤثر ہوگیا۔

پاکستانی عوام کو بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کے باوجود جنگ کے معاشی اثرات سے کوئی خاص تحفظ حاصل نہیں ہوسکا، جبکہ ریاست کو بھی امریکا سے قربت کے نتیجے میں محدود فوائد ہی ملے ہیں۔

امریکا کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے دسمبر 2025ء میں پاکستان کے ریکوڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے لیے 1.25 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی۔ تاہم امریکی محکمہ خزانہ سے 10 ارب ڈالر کی خصوصی مالی سہولت حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی اہم درخواست تاحال جواب کی منتظر ہے۔

پاکستان کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ سرکاری اور نجی سطح پر روابط بڑھانے کی کوششیں اب سیاسی خطرات کا باعث بن رہی ہیں، کیونکہ متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں میں ٹرمپ کے خاندان یا قریبی ساتھیوں کے مفادات بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد نے ٹرمپ سے منسلک کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کی جانب سے جاری کردہ مستحکم ڈیجیٹل کرنسی ’یو ایس ڈی 1‘ کے ذریعے ادائیگیوں کے امکانات تلاش کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ جنوری میں اس معاہدے پر دستخط کے موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ جدت کو ضابطہ کاری، استحکام اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مین ہیٹن میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو تعمیر و ترقی کے لیے بھی ایک اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے پر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے مذاکرات کیے تھے۔

اس کے علاوہ پاکستان نے پاورَس نامی کمپنی سے محدود تعداد میں ڈرونز کا آرڈر بھی دیا ہے، جس کے سرمایہ کاروں میں ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ جونیئر اور ایرک بھی شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ستمبر میں پاورَس کے حوالے سے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوال پر رائٹرز کو بتایا تھا کہ مفادات کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔

واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر اور ابوظبی میں قائم انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے سینئر فیلو حسین حقانی نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ لین دین پر مبنی تعلقات استوار کیے ہیں۔
ان کے مطابق امریکی صدر کے دوستوں اور رشتہ داروں سے متعلق بعض انتظامات شاید برقرار نہ رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بظاہر اس ممکنہ جانچ پڑتال کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔

واشنگٹن میں قائم اسٹمسن سینٹر کے سینئر فیلو ڈینیئل مارکے نے خبردار کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران یہ تاثر سامنے آیا کہ معاملات نجی مفادات کے تحت طے کیے گئے تھے تو اس سے دونوں ملکوں کے وسیع تر تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، تاہم پاکستان کے پاس اب بھی کچھ سفارتی امکانات موجود ہیں۔

اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور ایران کے حوالے سے سفارت کاری کو امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق ڈیموکریٹس متنازع معاہدوں کا ذمہ دار پاکستان کے بجائے ٹرمپ کو ٹھہرانے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔

تاہم مائیکل کوگل مین نے کہا کہ پاکستان کے لیے خطرہ یہ ہے کہ اس نے اپنے اتنے زیادہ سفارتی انڈے وائٹ ہاؤس کی ٹوکری میں رکھ دیے ہیں کہ اب ڈیموکریٹس کے لیے اس کے پاس کچھ باقی نہیں بچا۔