صوبائی حکومت کے مطابق ابتدائی طور پر محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو)، محکمہ آبپاشی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیگر متعلقہ اداروں کو اپنے زیرِ انتظام منصوبوں کی تفصیلات اور دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تحقیقات کا مقصد ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، مالی معاملات اور ٹھیکوں کی تقسیم کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات کا جائزہ لینا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کی ترجمان اور مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے تحقیقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں مائننگ، ترقیاتی فنڈز کے اجرا، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر بڑے منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ شروع کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمانہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ذمہ دار قرار پانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

صوبائی انتظامیہ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ کے دور میں شروع کیے گئے متعدد بڑے ترقیاتی منصوبے تحقیقات کے دائرے میں شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں ری وائیٹلائزیشن آف پشاور، شہری علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر، سٹی امپروومنٹ پراجیکٹس، محکمہ زراعت کے ترقیاتی منصوبے اور مائننگ کے شعبے میں ٹھیکوں کی تقسیم سے متعلق معاملات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں متعلقہ محکموں کو محکمانہ انکوائریاں مکمل کرنے اور منصوبوں سے متعلق مالی و انتظامی ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انکوائریوں کے دوران منصوبوں کی منظوری، فنڈز کے اجرا، اخراجات، ٹھیکے حاصل کرنے والی کمپنیوں اور تعمیراتی کاموں کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ محکمانہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعلقہ معاملات قومی احتساب بیورو (نیب) اور محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوائے جاسکتے ہیں، تاکہ الزامات کی مزید چھان بین اور قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے۔ تاہم تاحال ان تحقیقات کے نتائج سامنے نہیں آئے اور کسی بھی الزام کو ثابت شدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سہیل آفریدی کو 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ ثمر ہارون بلور کے مطابق سابق وزیراعلیٰ اس وقت بھی حفاظتی تحویل میں ہیں اور ان کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔

دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ کے قریبی ساتھی عبدالہادی عرف پتنگ کا معاملہ بھی صوبائی حکومت کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ثمر ہارون بلور کے مطابق عبدالہادی کی بیرون ملک سے گرفتاری اور پاکستان منتقلی کے لیے وفاقی حکومت کے ذریعے انٹرپول سے رابطہ کیا گیا ہے، جبکہ انہیں پاکستان واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عبدالہادی عرف پتنگ کا تعلق قبائلی ضلع خیبر سے ہے اور انہیں سہیل آفریدی کا قریبی ساتھی اور رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ سابق وزیراعلیٰ کے دور میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرریوں اور ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں کی تقسیم کے معاملات میں مبینہ طور پر اثرورسوخ استعمال کیا گیا اور کمیشن وصول کیا جاتا رہا۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی کے اقتدار سے الگ ہونے سے قبل عبدالہادی عرف پتنگ بیرون ملک چلے گئے تھے اور آخری اطلاعات کے مطابق وہ دبئی میں مقیم تھے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری اور پاکستان منتقلی کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے کیے جارہے ہیں۔

خیبرپختونخوا کی نئی انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی ان تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوسکے گا کہ سابق دورِ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں کے الزامات میں کس حد تک شواہد موجود ہیں اور آیا کسی فرد یا سرکاری اہلکار کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت بنتی ہے یا نہیں۔