سلیمان خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنی متعدد پوسٹس میں کہا کہ ان کے خاندان کو اگست سے اب تک نہ تو عمران خان سے ملاقات کا موقع دیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی خیریت کے بارے میں براہِ راست کوئی اطلاع ملی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان نے اگست میں اہل خانہ کو بتایا تھا کہ انہیں جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ حکام انہیں قتل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

سلیمان خان نے اقوام متحدہ کے تشدد کے حوالے سے خصوصی نمائندے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد مرتبہ واضح کر چکے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں غیر انسانی سلوک کے باعث ان کے والد کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اگست میں عمران خان کے طبی معائنے، شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج اور اہل خانہ و وکلا سے باقاعدہ ملاقاتوں کا حکم دیا تھا، تاہم ان احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ سلیمان خان نے خبردار کیا کہ اگر ان کے والد دورانِ حراست انتقال کر گئے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

سلیمان خان نے الزام لگایا کہ حکام عمران خان کی مقبولیت سے خوف زدہ ہیں۔ ان کے مطابق تین سال قبل جب عمران خان کو جیل میں ڈالا گیا تھا تو وہ غیر معمولی طور پر صحت مند تھے، حالانکہ اس سے قبل وہ قاتلانہ حملے میں زخمی بھی ہوئے تھے اور ان کی ٹانگ میں گولی لگی تھی۔

عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سلیمان خان نے کہا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ اگر ان کے والد کو کچھ ہوا تو حکام بعد میں ان کی موت کو طبعی وجوہات یا بڑھاپے کا نتیجہ قرار دے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ وہ متعدد قانونی مقدمات کے سلسلے میں جیل میں قید ہیں۔ ان کے حامی ان کی گرفتاری اور جیل میں ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تنقید کرتے رہے ہیں، جبکہ ان کی صحت اور وکلا تک رسائی کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

سلیمان خان نے پاکستان کی موجودہ قیادت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے والی غیر ملکی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے تعلقات جمہوریت اور انسانی حقوق کی حمایت کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔