پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات 1951 میں قائم ہوئے۔ وقت کے ساتھ دفاعی تعاون سے لے کر تجارت اور ترقیاتی منصوبوں تک تعلقات پھیلتے گئے۔ 2015 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک، اس شراکت داری کا ایک اہم حصہ بنی۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، 2024 کے اختتام تک سی پیک کے تحت پاکستان میں تقریباً 25.93 ارب ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری ہوئی، جبکہ ملک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 8 ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہوا۔
یعنی اب تک زیادہ تر تعاون ایسے منصوبوں پر رہا جن کے ذریعے بجلی پیدا ہو، سڑکیں بنیں اور تجارت کے راستے بہتر ہوں۔ میڈیا اور معلومات کے تبادلے میں بھی دونوں ملک پہلے سے تعاون کرتے رہے ہیں، لیکن اب انفارمیشن کوریڈور کے ذریعے ان رابطوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے اور مزید منظم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اب اس نئے منصوبے کے تحت چار بنیادی شعبوں یعنی میڈیا، کاروبار، تھنک ٹینکس، اور عوامی رابطے پر کام کیا جائے گا۔ میڈیا ادارے خبروں کے تبادلے اور ان کی تصدیق میں تعاون کریں گے۔ کاروباری شعبے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے، جبکہ تھنک ٹینکس مشترکہ تحقیق کے ذریعے دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیں گے۔ اس کے علاوہ، ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں کے تبادلوں کے ذریعے دونوں ملکوں کے عوام کو قریب لانے کی کوشش کی جائے گی۔
لیکن ایک عام پاکستانی کے لیے اس منصوبے کا فائدہ تب ہوگا جب اسے عملی شکل دی جائے۔ اس سے کاروباری افراد کو نئے مواقع، نوجوانوں کو رابطوں کے نئے راستے اور عوام کو پاکستان چین تعاون کے بارے میں بہتر معلومات مل سکتی ہیں۔
سی پیک نے پاکستان اور چین کے درمیان معاشی رابطے بڑھائے اور اب انفارمیشن کوریڈور معلومات اور لوگوں کے درمیان رابطے مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کوریڈور محض ایک سفارتی اعلان بن کر رہتا ہے یا واقعی ایسی معلوماتی راہداری بنتا ہے جو دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے ساتھ اعتماد کو بھی مضبوط کرے۔







