پارلیمانی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن کو باضابطہ طور پر مذاکرات کی دعوت دینے کی ہدایت کردی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آئندہ انتخابات کی شفافیت یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا اور انتخابی نظام میں بہتری کے لیے مشترکہ تجاویز مرتب کرنا ضروری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے انتخابی اصلاحات سے متعلق 20 رکنی پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کے 5 ارکان کو شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مقصد کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے کمیٹی میں نامزدگی کے لیے پانچ ارکان کے نام طلب کیے جائیں گے، تاکہ انہیں انتخابی قوانین اور طریقہ کار میں مجوزہ تبدیلیوں پر مشاورت کا موقع فراہم کیا جاسکے۔

اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن کو باضابطہ خط لکھیں گے، جس میں انہیں پارلیمانی کمیٹی کا حصہ بننے کی دعوت دی جائے گی۔ خط کے ذریعے اپوزیشن سے درخواست کی جائے گی کہ وہ کمیٹی میں نمائندگی کے لیے اپنے پانچ ارکان کے نام بھجوائے، تاکہ انتخابی اصلاحات کے معاملے پر مشترکہ مشاورت کا عمل شروع کیا جاسکے۔

دوسری جانب انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا معاملہ بھی پارلیمنٹ میں آگے بڑھایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں بیرسٹر عقیل ملک نے سینیٹ میں قرارداد پیش کردی ہے، جس کا مقصد انتخابی اصلاحات کے عمل کو پارلیمانی فورم کے ذریعے آگے بڑھانا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اپوزیشن کو کمیٹی میں شامل کرنے کا بنیادی مقصد انتخابی نظام میں بہتری کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی تجاویز حاصل کرنا اور ایسے اقدامات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے جن سے مستقبل میں انتخابات کی شفافیت، ساکھ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنایا جاسکے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی اس پیشکش پر کیا ردِعمل دیتی ہیں اور آیا انتخابی اصلاحات کے معاملے پر پارلیمانی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہو پاتا ہے یا نہیں۔