یہ واقعہ صرف ایک بڑے مالی نقصان کی کہانی نہیں بلکہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ جب دنیا کی بڑی کرپٹو کمپنیوں کے سکیورٹی نظام بھی سائبر حملوں سے محفوظ نہیں تو عام صارفین اپنے ڈیجیٹل اثاثوں پر کتنا بھروسا کرسکتے ہیں؟
بائننس نے 30 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آوروں نے کمپنی کے ایک ڈیواپس انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک کرکے اندرونی سسٹم تک رسائی حاصل کی اور غیر مجاز ٹرانزیکشنز کے ذریعے اثاثے منتقل کیے۔
کمپنی کے مطابق واقعے میں متعدد سکیورٹی خامیاں سامنے آئی ہیں، تاہم اب تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ڈیجیٹل والٹس کی نجی چابیاں (پرائیویٹ کیز) لیک ہوئی ہوں۔ بائننس کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد حملے کی تکنیکی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
صرف 20 منٹ میں اربوں ڈالر کیسے منتقل ہوئے؟
امریکی بلاک چین تجزیاتی ادارے ٹی آر ایم لیبز کے مطابق حملہ آوروں نے بائننس کے والٹس سے تقریباً 6 ارب 36 کروڑ ڈالر مالیت کے اثاثے 10 مختلف بلاک چین نیٹ ورکس پر منتقل کیے، جن میں سے زیادہ تر رقم تقریباً 20 منٹ کے اندر منتقل کردی گئی۔
ادارے نے اس حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کو قرار دیا ہے۔ ٹی آر ایم لیبز کے مطابق اس کی تحقیقات میں حملے کے طریقہ کار اور پہلے ہونے والے سائبر حملوں سے مماثلت سامنے آئی ہے۔
دھیان رہے کہ اس نسبت کو حتمی سرکاری تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلاک چین تجزیاتی ادارے ایلیپٹک نے بھی شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے، لیکن اس کے مطابق ابھی کسی حکومتی یا قانون نافذ کرنے والے ادارے نے باضابطہ طور پر ذمہ داری کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹریڈر ٹریٹر نامی گروپ پر اتنی بڑی کرپٹو چوری کا الزام لگا ہو۔ فروری 2025 میں کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ سے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چوری ہوئے تھے۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اس حملے کا ذمہ دار بھی شمالی کوریا کو قرار دیا تھا۔
بائننس نے کتنی رقم واپس حاصل کی؟
بائننس کے مطابق اس نے دیگر بلاک چین کمپنیوں اور ڈیجیٹل کرنسی جاری کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر چوری شدہ اثاثوں میں سے تقریباً 3 ارب ڈالر منجمد کروا دیے ہیں۔
اس کارروائی میں ٹیتر اور سرکل جیسے اداروں نے بھی کردار ادا کیا، جو بالترتیب یو ایس ڈی ٹی اور یو ایس ڈی سی جیسی اسٹیبل کوائنز جاری کرتے ہیں۔ ان اداروں کے پاس مخصوص حالات میں اپنے جاری کردہ ڈیجیٹل ٹوکنز کو منجمد کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
بائننس نے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے اثاثے محفوظ ہیں اور ہیکنگ سے ہونے والے تمام نقصانات کمپنی اپنے فنڈز اور صارفین کے تحفظ کے لیے قائم ایمرجنسی فنڈ ’سیفو‘ سے پورے کرے گی۔
کمپنی نے سکیورٹی جانچ کے لیے عارضی طور پر ڈپازٹس اور رقم نکلوانے کی سہولت بھی معطل کردی تھی، جب کہ متاثرہ پتے کی اجازت منسوخ کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا گیا۔ تاہم بائننس کے ابتدائی اعلان میں تقریباً 3 ارب ڈالر منجمد ہونے کی تصدیق کی گئی، جب کہ باقی تقریباً 3.3 ارب ڈالر کی مکمل بازیابی کی تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔
کیا بائننس کو ہیک کرنا اتنا آسان ہے؟
اس واقعے سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوگا کہ بائننس کو ہیک کرنا آسان ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک بڑی کمپنی کے اندرونی سسٹم تک رسائی حاصل کرکے اربوں ڈالر کی ٹرانزیکشنز کیسے ممکن ہوئیں؟
اسے سمجھنے کے لیے کرپٹو ایکسچینج کے کام کرنے کا طریقہ جاننا ضروری ہے۔ جب کوئی صارف بائننس پر کرپٹو کرنسی خریدتا یا جمع کرواتا ہے تو ضروری نہیں کہ ہر ٹرانزیکشن فوری طور پر بلاک چین پر الگ سے درج ہو۔ ایکسچینج اپنے صارفین کے اثاثوں کی تحویل اور لین دین کے لیے مختلف ڈیجیٹل والٹس اور اندرونی نظام استعمال کرتا ہے۔
ان میں ایک اہم قسم ’ہاٹ والٹس‘ کی ہے، جو انٹرنیٹ سے منسلک ہوتے ہیں اور روزمرہ کی ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب ’کولڈ والٹس‘ انٹرنیٹ سے الگ رکھے جاتے ہیں، جس سے ان تک آن لائن رسائی کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
ہاٹ والٹس کی آن لائن موجودگی انہیں فوری لین دین کے لیے مفید بناتی ہے، لیکن یہی رابطہ انہیں سائبر حملوں کے ممکنہ خطرات سے بھی دوچار کرتا ہے۔
بائننس کے حالیہ واقعے میں ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آوروں نے ایک انجینئر کے کمپیوٹر کے ذریعے اندرونی سسٹم تک رسائی حاصل کی اور والٹس سے غیر مجاز ٹرانزیکشنز کرانے میں کامیاب ہوئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی صارف کا اکاؤنٹ ہیک کرکے رقم نکالی گئی، بلکہ بظاہر کمپنی کے اپنے آپریشنل نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ کسی بڑے ادارے کے لیے صرف مضبوط پاس ورڈ یا والٹس کی نجی چابیاں محفوظ رکھنا کافی نہیں ہوتا؛ ملازمین کے کمپیوٹرز، اندرونی اجازتوں، سافٹ ویئر اور ٹرانزیکشنز کی منظوری کے نظام کو بھی محفوظ بنانا ضروری ہوتا ہے۔
ایک ارب ڈالر کا حفاظتی فنڈ کیوں اہم ہے؟
بائننس نے صارفین کے ممکنہ نقصانات پورے کرنے کے لیے ’سیفو‘ کے نام سے ایک ایمرجنسی فنڈ قائم کر رکھا ہے۔ کمپنی کے مطابق جنوری 2026 میں اس فنڈ میں تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے یو ایس ڈی سی موجود تھے۔
یہ فنڈ ہیکنگ یا دیگر غیر معمولی سکیورٹی واقعات کی صورت میں صارفین کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاہم حالیہ واقعے میں نقصان کا تخمینہ اس فنڈ کی مالیت سے کئی گنا زیادہ ہے، اسی لیے بائننس نے کہا ہے کہ باقی ادائیگی کمپنی اپنے وسائل سے بھی کرے گی۔
کیا کرپٹو کرنسی کا مستقبل خطرے میں ہے؟
بائننس پر حملے کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں بھی منفی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ رائٹرز کے مطابق خبر سامنے آنے کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں 3 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جب کہ ایتھر اور بائننس کے اپنے ڈیجیٹل ٹوکن بی این بی کی قیمتیں بھی دباؤ کا شکار ہوئیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں صرف قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہی خطرہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل اثاثوں کی تحویل اور سکیورٹی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ماہرین کے نزدیک صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس پر دو مرحلوں والی تصدیق فعال رکھیں، مشکوک لنکس سے بچیں، اپنے اکاؤنٹ کی سکیورٹی اطلاعات پر نظر رکھیں اور بڑی مالیت کے ایسے اثاثے جو فوری ٹریڈنگ کے لیے درکار نہ ہوں، انہیں مناسب محفوظ تحویل میں رکھنے پر غور کریں۔
بائننس کا واقعہ بتاتا ہے کہ دنیا کا بڑا کرپٹو ایکسچینج ہونا بھی سائبر حملوں سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں۔ اصل امتحان اب یہ ہے کہ کمپنی اس حملے کی مکمل وجوہات سامنے لاتی ہے، باقی اثاثے واپس حاصل کرتی ہے اور اپنے سکیورٹی نظام میں ایسی خامیوں کو کیسے دور کرتی ہے۔







