لاہور کی عوام کے نام خصوصی پیغام میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ دل کی گہرائیوں سے لاہوریوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے ان کے بقول تمام تر فسطائیت، جبر اور ظلم کا مقابلہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاہور میں آج ایسا کرفیو نافذ کیا گیا جو قبائلی اضلاع میں فوجی آپریشنز کے دوران بھی نہیں دیکھا گیا۔ سادہ لباس میں نامعلوم افراد بھی شہر میں موجود تھے اور خواتین، بچوں اور عام شہریوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ لاہوریوں نے خوف کی زنجیریں توڑ دی ہیں اور عوام کو 27 ستمبر تک بلکہ اس کے بعد بھی اپنا جذبہ برقرار رکھنا ہوگا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر صرف تین گھنٹے کے لیے جلسے کی اجازت دے دی جائے، راستے بند نہ کیے جائیں اور کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہو تو لاہور سے اتنی بڑی تعداد میں عوام نکلے گی جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہی وہ آزادی ہے جو عمران خان قوم کو دے چکے ہیں اور اسی جذبے کے تحت لاہور کے عوام نے خوف کی تمام زنجیریں توڑ دی ہیں۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ان کے 2 ہزار سے زائد کارکن گرفتار کیے جا چکے ہیں، جہاں مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا وہاں پنجاب پولیس نے ٹینٹ اکھاڑ دیے اور کھانا بھی اپنے ساتھ لے گئی۔
انہوں نے پنجاب پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام پولیس کے رویے سے تنگ ہیں اور پولیس کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے ادارے کو کس طرف لے کر جا رہی ہے۔ یہ غصہ ایک دن ضرور پھٹے گا، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس دن سے پہلے متعلقہ حکام ظلم و جبر کا راستہ چھوڑ دیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ لاہور میں اسٹریٹ موومنٹ اختتام پذیر ہوگئی ہے اور قافلہ اب باقی روٹ کی جانب روانہ ہوگا۔ انہوں نے روٹ میں آنے والے علاقوں کے عوام سے کل کے لیے تیاری کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ ان سے وہیں ملاقات ہوگی۔ ’شکریہ لاہور‘ کے ساتھ سہیل آفریدی نے لاہور کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا۔






