ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ روز لاہور میں پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی کال نہیں دی گئی تھی، اس کے باوجود لاہور کے عوام بڑی تعداد میں خود سڑکوں پر نکل آئے۔ کسی کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، تاہم لاہور کے عوام خود ان کے ساتھ نکلے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے ان کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے راستے بند کیے، جب کہ جہاں جہاں وہ جا رہے تھے وہاں کی لائٹس بھی بند کی گئیں۔

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ پیٹرول پمپس بند کرائے گئے اور مالکان کو ان کی گاڑیوں کو پیٹرول دینے سے روکا گیا، جب کہ قیام کی جگہ سے ٹینٹ اکھاڑ دیے گئے اور آنے والے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نے کارکنوں کو گرفتار کرکے پریزن وین میں بٹھا دیا، جس پر وہ احتجاجاً پولیس وین پر کھڑے رہے۔

سہیل آفریدی نے گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ جب وہ احتجاجاً پولیس وین میں بیٹھے تو انہیں مبینہ طور پر اغوا کرکے گاڑی بھگا دی گئی۔ انہیں بغیر سیکیورٹی کے تقریباً 15 منٹ تک لاہور کی سڑکوں پر گھمایا گیا اور بعد ازاں راستے میں چھوڑ دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے اس عمل کو 'بہت بڑا سیکیورٹی رسک' قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ انہیں سیکیورٹی تھریٹ نہیں بلکہ سیکیورٹی سے ہی خطرہ ہے۔

سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کارکن اشتیاق احمد کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ میلاد کی تیاریوں میں مصروف تھے اور انہیں گرم تیل کی کڑاہی میں پھینک کر قتل کیا گیا۔

انہوں نے میڈیا پر مبینہ خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کا تقاضا ہے کہ حق کو حق اور سچ کو سچ کہا جائے۔

وزیراعلیٰ نے صحافی ارشد شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی حق اور سچ کی آواز بلند کرنے پر قتل کیا گیا اور آج بھی قوم انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

سہیل آفریدی نے پنجاب حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف اقدامات ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’پہلے میری عوام جائے گی، پھر میں‘؛ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا لاہور میں روٹ بندش پر احتجاج

انہوں نے پنجاب حکومت اور پولیس پر سیاسی ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کو سیاسی بنا کر اتنا زہریلا کر دیا گیا ہے کہ ان میں شرم اور تمیز باقی نہیں رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پنجاب حکومت سمجھتی ہے کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے انہیں روکا جاسکتا ہے تو یہ ان کی بھول ہے۔ لاہور کے عوام گزشتہ روز بغیر کسی کال کے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور آج بھی عوام سڑکوں پر نکلیں گے۔

انہوں نے پنجاب حکومت اور پولیس کو 'ہوش کے ناخن لینے' کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر آج بھی رویہ تبدیل نہ ہوا تو خیبرپختونخوا میں جاری اجلاس کے بعد سخت ردعمل آئے گا، ہمیں اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں روکا جاسکتا۔