پاکستان فارما ہیلتھ کیئر ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاک انڈیا جنگ میں اللہ نے پاکستان کو فتح دی اور پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں دشمن کو 6 دن میں شکست دی۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا نے یہ سوچا کہ دفاع کے اعتبار سے پاکستان سے اچھا کوئی دوست نہیں ہوسکتا، جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے۔ ان کے مطابق وفاق ہر سال 8 ہزار 884 ارب روپے صوبوں میں تقسیم کرتا ہے اور اتنی بڑی رقم چار وزرائے اعلیٰ کو مل جاتی ہے، لیکن ان فنڈز کو یونین کونسلز تک پہنچانے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کئی ممالک سے بڑے ہیں، سندھ 165 ممالک سے بڑا ہے، جب کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے 180 ممالک سے بڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 70 لاکھ تھی تو اس وقت بھی ملک میں 4 صوبے تھے، جب کہ اب آبادی ساڑھے 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور اب بھی صرف 4 صوبے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا میں 9، ایران میں 23 اور بھارت میں بھی کئی صوبے ہیں، اس لیے نئے صوبے بنانے سے ملک ٹوٹتا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ موجودہ نظام میں کچھ ایسا ضرور ہے کہ لوگ بندوق اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لڑائی ہورہی ہے، فوجی افسر شہید ہورہے ہیں اور اس جنگ میں بیرونی عناصر بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش مسائل کے ساتھ ساتھ موجودہ نظام کو بھی جڑ سے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبوں کی بات ہو تو کہا جاتا ہے کہ یہ عزت اور غیرت کا معاملہ ہے، لیکن جب گٹر میں گر کر بچے جاں بحق ہوتے ہیں تو اس وقت کسی کی غیرت کیوں نہیں جاگتی؟

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف روزانہ 14 گھنٹے کام کررہے ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنا بہت مشکل ہے۔ وزیراعظم سے ادھر ادھر کی بات نہیں کی جاسکتی، جبکہ وہ تین مرتبہ وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم کا کام گٹر کے ڈھکن لگانا نہیں بلکہ نظام کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مل بیٹھ کر بات کریں اور موجودہ معاملات کا آئینی حل نکالیں۔