صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں کے چنگل سے بازیاب ہونے والے ایم ٹی آنر 25 کے تینوں پاکستانی کریو ممبران بازیابی کے طویل اور کٹھن مراحل طے کرنے کے بعد ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ای ٹی 694 کے ذریعے کراچی پہنچے۔

وطن واپس پہنچنے والے تین پاکستانی شہریوں میں حسین یوسف، عمران علی اور محمد یاسین شامل ہیں۔

جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کی آمد کے موقع پر اہلخانہ، عزیز و اقارب اور دوستوں نے انہیں پھولوں کے ہار پہنائے اور پُرجوش انداز میں استقبال کیا۔ اس موقع پر گورنر سندھ نہال ہاشمی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر حکام بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔

طویل عرصے بعد اپنے پیاروں سے ملاقات پر ایئرپورٹ پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ اہلخانہ نے اپنے عزیزوں کو گلے لگا کر خوشی کا اظہار کیا، جب کہ بازیاب ہونے والے پاکستانی بھی اپنے خاندان سے مل کر جذباتی ہوگئے۔

حکام کے مطابق وزارت خارجہ، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن اور ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔

قزاقوں کی قید سے واپس آنے والے پاکستانیوں کے طبی معائنے کے لیے ڈاکٹر صنوبر کی قیادت میں جناح اسپتال کی میڈیکل ٹیم بھی ایئرپورٹ پر موجود تھی، جہاں تینوں پاکستانیوں کا طبی معائنہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو صومالیہ کے ساحل کے قریب سمندری قزاقوں نے یرغمال بنا لیا تھا، جس کے بعد پاکستانی شہریوں کی رہائی اور بحفاظت وطن واپسی کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں کی گئیں۔

قانونی اور انتظامی مراحل مکمل ہونے کے بعد تینوں پاکستانیوں کو بحفاظت رہا کرایا گیا اور اب انہیں وطن واپس پہنچا دیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اپنے بیان میں بتا چکے ہیں کہ صومالیہ کے قزاقوں کے قبضے سے 3 پاکستانیوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ ان کی رہائی کے لیے متعلقہ حکام اور سفارتی ذرائع کے ذریعے مسلسل کوششیں کی گئی تھیں۔

اس سے قبل صومالیہ کے واقعے سے متاثرہ دیگر پاکستانیوں اور جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی میتیں بھی وطن واپس لائی جا چکی ہیں۔

تینوں پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کے بعد ان کے اہلخانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ طویل انتظار کے بعد اپنے پیاروں سے ملاقات نے گھر والوں کے لیے اس واپسی کو ایک جذباتی لمحہ بنا دیا۔