کراچی میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حماس نے طوفان الاقصیٰ کی بھرپور منصوبہ بندی کی اور اس دوران مکمل رازداری برقرار رکھی۔ حماس نے نظم و ضبط کے ساتھ خود کو ایک منظم مزاحمتی تحریک کے طور پر تیار کیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو اچانک حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا آئرن ڈوم بھی حماس کے حملوں کے سامنے بے بس دکھائی دیا، جب کہ اسرائیلی فوج، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور امریکا کی حمایت بھی 7 اکتوبر کے حملے کو روکنے میں ناکام رہی۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق محدود وسائل رکھنے والے فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا، اس کے بعد اسرائیل نے طوفان الاقصیٰ کا بدلہ فلسطینی شہریوں سے لیا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کا سب سے زیادہ نشانہ خواتین اور بچے بنے، جب کہ فلسطینی شہریوں کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے اسرائیل پر غزہ میں سفید فاسفورس سمیت مختلف مہلک ہتھیار استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ بمباری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی تقریباً پوری آبادی جنگ کے اثرات سے متاثر ہوئی اور اسرائیلی حملوں نے بڑے پیمانے پر عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 7 اکتوبر سے پہلے بھی غزہ کی تقریباً 22 سے 23 لاکھ آبادی ایک محدود اور محصور علاقے میں زندگی گزار رہی تھی، تاہم جنگ کے بعد صورتحال مزید تباہ کن ہوگئی۔ اسرائیلی بمباری نے پورے غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا اور ہزاروں فلسطینی جان سے گئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں لاشیں اور انسانی باقیات اب بھی ملبے تلے موجود ہیں اور ملبہ ہٹانے کے دوران اجتماعی قبریں اور لاشیں برآمد ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد غزہ میں بڑے پیمانے پر جنگ ہوئی، جس میں فلسطینیوں کی شہادتوں کی تعداد 74 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ اقوام متحدہ بھی غزہ میں انسانی بحران اور بڑے پیمانے پر تباہی کی صورتحال کی مسلسل نشاندہی کرتا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ کے بعد عالمی ضمیر کو اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے تھا، لیکن مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور عالمی طاقتوں کی خاموشی نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف مزید کارروائیوں کا موقع دیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان حکمرانوں کو فلسطینیوں کے حق میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تھا اور اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہیے تھے۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں نوجوانوں، طلبہ اور انسان دوست لوگوں نے فلسطینیوں کے حق میں بڑی عوامی تحریک چلائی اور مشرق سے مغرب تک احتجاجی مظاہروں کے ذریعے اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف آواز بلند کی گئی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر اقوام متحدہ میں متعدد قراردادیں منظور ہوتی رہی ہیں، عملی سطح پر فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہیں ہوسکے۔
انہوں نے عالمی ادارے کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے پاس اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں سے روکنے کا مؤثر طریقہ کار نظر نہیں آتا۔ فلسطین کا معاملہ دنیا میں طاقتور اور کمزور ریاستوں کے لیے مختلف اصولوں کی بحث کو بھی سامنے لے آیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعووں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی بات کرتی ہے، لیکن فلسطین میں خواتین اور بچوں کی شہادتوں کے باوجود اسرائیل کے خلاف مؤثر دباؤ نظر نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کا معاملہ مغربی طاقتوں کی پالیسیوں میں موجود تضادات اور عالمی سیاست میں طاقت کے کردار کی مثال بن چکا ہے۔ انہوں نے امریکا پر اسرائیل کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت اسرائیل کے لیے اہم رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو فلسطین کی صورتحال پر عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر کے دوران مختلف وفود کے احتجاجاً واک آؤٹ اور ہال میں خالی نشستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عالمی مخالفت کی علامت ہے۔
حالیہ برسوں میں فلسطین کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور دیگر عالمی فورمز پر اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف متعدد ممالک نے شدید اعتراضات بھی اٹھائے ہیں، تاہم اسرائیل اور اس کے اتحادی کئی الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فلسطین کے معاملے نے دنیا کے سامنے یہ سوال رکھ دیا ہے کہ عالمی نظام میں انسانی حقوق کے اصول سب کے لیے یکساں ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف عالمی طاقتیں جمہوریت، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی بات کرتی ہیں جب کہ دوسری جانب فلسطینیوں کے معاملے میں ان اصولوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے عالمی نظام پر سوال اٹھتے ہیں۔







