عالمی بینک کی تازہ ترین اکنامک اپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق خطے میں تنازعات، معاشی بحران، بلند افراطِ زر اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کے ذرائع معاش کو شدید متاثر کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا، افغانستان اور پاکستان دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح کورونا وبا سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی بلند ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق خطے کے انتہائی غریب افراد میں تقریباً 47 فیصد جنگ زدہ ممالک افغانستان، شام اور یمن میں مقیم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018 سے 2025 کے دوران روزانہ 3 ڈالر آمدنی کی حد کے حساب سے غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس، جب کہ 4.20 ڈالر یومیہ آمدنی کی حد کے مطابق 3.2 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا۔
عالمی بینک نے کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور طویل معاشی اصلاحات کو پاکستان میں غربت میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پاکستان، مغربی کنارے اور غزہ میں ڈیزل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ پاکستان، لبنان، شام اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض ممالک میں پٹرول کی قیمت بھی 40 فیصد یا اس سے زیادہ بڑھ گئی۔
عالمی بینک کے مطابق حکومتوں کی جانب سے قیمتوں پر کنٹرول اور سبسڈی کے اقدامات سے عوام کو عارضی ریلیف ملا، تاہم ان اقدامات کے نتیجے میں سرکاری مالیات پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق مصر، اردن اور تیونس میں حکومتی قرضے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 80 فیصد سے تجاوز کرگئے، جب کہ لبنان میں یہ شرح 130 فیصد تک پہنچ گئی۔
پاکستان سمیت الجزائر، جبوتی، عراق اور مراکش کو بھی قرضوں کی ادائیگی اور مالی ضروریات کے باعث مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باعث پاکستان اور شام میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے، جن کے اثرات معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ عوام کی اجتماعی زندگی پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔







