اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے، حکومت کی خواہش ہے کہ سیاسی جماعتیں قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور ایسے طریقہ کار سے گریز کریں جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھے۔

وزیراعظم کے مشیر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں گزشتہ برسوں کے دوران احتجاج، سیاسی کشیدگی اور سخت بیانیے کا رجحان بڑھا ہے، سیاسی اختلاف کو جمہوری اور پارلیمانی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے، جبکہ ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان اور عدم برداشت کے رجحان سے سیاسی ماحول متاثر ہوتا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 2024 کے بعد ایک بار پھر پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کی بات کی جارہی ہے، حکومت اس معاملے کو سیاسی احتجاج کے بجائے امن و امان اور ریاستی نظم و نسق کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی وسائل کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے معاملے پر سوالات اٹھتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا کو سیکیورٹی کے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران پولیس، سیکیورٹی اداروں اور عام شہریوں کی جانیں ضائع ہورہی ہیں، اس لیے صوبائی حکومت کی ترجیحات میں امن و امان کو اولین حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں میں خیبر پختونخوا کے شہری بھی شامل ہیں اور ان کے خاندان مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ ان کے مطابق شہدا کے خاندانوں کی ضروریات اور صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات پیش کرنے اور احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کی طرف مارچ، سڑکوں کی بندش یا ریاستی امور میں خلل پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے شہری زندگی اور انتظامی معاملات متاثر ہوسکتے ہیں۔

حکومت پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرچکی ہے کہ پرامن احتجاج سیاسی جماعتوں کا حق ہے، تاہم اسلام آباد میں احتجاج اور لانگ مارچ کے حوالے سے حکومت نے قانونی و انتظامی پابندیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے حالیہ دنوں میں بھی کہا تھا کہ سیاسی جماعتیں احتجاج کے لیے دیگر شہروں کا انتخاب کرسکتی ہیں اور وفاقی دارالحکومت میں مارچ کی روایت ختم ہونی چاہیے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کے سیاسی مطالبات پر بات چیت سے انکار نہیں کررہی، تاہم مذاکرات کے لیے ایسا ماحول ضروری ہے جس میں سیاسی کشیدگی کم ہو اور فریقین ایک دوسرے کے مؤقف کو سننے کے لیے تیار ہوں، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا مقصد سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانا ہونا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ کے حالیہ بیانات میں حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کو انسدادِ دہشتگردی کی پالیسی سمیت بعض معاملات میں پیش رفت سے بھی جوڑا گیا ہے، اگر پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف حکومتی پالیسی پر مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائے تو مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام، معاشی سرگرمیوں اور سیکیورٹی کے حوالے سے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ حکومت ریاستی نظم و نسق کو مفلوج کرنے یا تشدد کے ذریعے سیاسی مطالبات منوانے کی اجازت نہیں دے گی، سیاسی اختلافات کا حل پارلیمان، مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی تلاش کیا جانا چاہیے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد مارچ کے معاملے پر اپنے سیاسی مؤقف اور مطالبات پیش کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج کے حق کے ساتھ امن و امان اور قانون کی پابندی بھی ضروری ہے۔ یوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ بھی آئندہ دنوں میں اہم رہے گا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم ریاستی امور کو متاثر کرنے، تشدد یا سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے والے کسی بھی اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔