پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ ’اپنی چھت اپنا گھر‘ پروگرام کو اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کی جانب سے سکرول آف آنر ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اعزاز کم آمدن والے خاندانوں کو اپنے گھر کی تعمیر کے لیے بلا سود مالی معاونت فراہم کرنے والے منصوبے کی عالمی سطح پر پذیرائی کا اظہار ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عالمی اعزاز کے لیے منتخب کیے گئے 5 منصوبوں میں پنجاب کا ’اپنی چھت اپنا گھر‘ پروگرام پہلے نمبر پر رہا، جو پنجاب حکومت اور صوبے کے عوام کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے، پروگرام کے ذریعے کم آمدن رکھنے والے خاندانوں کو اپنے گھر کی تعمیر کے لیے آسان شرائط پر بلا سود قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق منصوبے کا آغاز 2024 میں کیا گیا تھا اور اب تک تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار افراد کو گھر کی سہولت فراہم کی جاچکی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 5 سال کے دوران 10 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے اور حکومت اسی منصوبہ بندی کے تحت پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اپنی چھت اپنا گھر‘ کے تحت ایک سے 10 مرلہ تک کا پلاٹ رکھنے والے اہل افراد کو گھر کی تعمیر کے لیے بلا سود قرض دیا جا رہا ہے، جبکہ قرض کی واپسی کی مدت 9 سال مقرر کی گئی ہے، حکومت کا مقصد ایسے خاندانوں کو اپنی چھت فراہم کرنا ہے جو محدود آمدن کے باعث ذاتی گھر تعمیر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ ہاؤسنگ پروگرام میں میرٹ اور شفافیت کو بنیادی اصول بنایا گیا ہے اور مستحق افراد کو کسی سفارش کے بغیر سہولت فراہم کی جا رہی ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ منصوبے کے ثمرات حقیقی طور پر کم آمدن والے خاندانوں تک پہنچیں اور گھر کی تعمیر کے عمل میں غیر ضروری رکاوٹیں کم کی جائیں۔
وزیر اطلاعات نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک ایسا سیاسی گروہ موجود ہے جسے حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے عوامی فلاح کے منصوبے بھی قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے تک حکومت کرنے کے باوجود کم آمدن والے افراد کے لیے پنجاب کے ’اپنی چھت اپنا گھر‘ جیسے منصوبے پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے تحریک انصاف کے دور حکومت کے دوران کیے گئے ’ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر‘ کے وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہداف عملی شکل اختیار نہیں کرسکے، پنجاب حکومت کا موجودہ ہاؤسنگ ماڈل اس اعتبار سے مختلف ہے کہ قرض پر سود کی ادائیگی صوبائی حکومت خود کر رہی ہے، جبکہ ان کے مطابق سابقہ ہاؤسنگ منصوبے میں سود کی ادائیگی شہریوں پر عائد ہوتی تھی۔
صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے بھی ’اپنی چھت اپنا گھر‘ پروگرام کو عالمی اعزاز ملنے پر اسے پنجاب کے ساتھ ساتھ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے لیے اعزاز قرار دیا، عالمی سطح پر ہونے والی تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے منصوبے کو نمایاں پذیرائی ملی اور ’اپنی چھت اپنا گھر‘ تیزی سے آگے بڑھنے والے ہاؤسنگ پروگرامز میں شامل ہوگیا ہے۔
بلال یاسین نے منصوبے کی پیش رفت سے متعلق اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ اب تک 2 لاکھ 20 ہزار خاندانوں کو رقوم فراہم کی جاچکی ہیں، جبکہ ایک لاکھ 22 ہزار خاندان اپنے تعمیر کردہ گھروں میں رہائش اختیار کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق پروگرام کے تحت 278 ارب روپے کی رقم عام آدمی تک پہنچائی جاچکی ہے اور فراہم کی جانے والی تمام مالی معاونت سود سے پاک ہے۔
انہوں نے کہا کہ کم ترین مدت میں اتنے بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ منصوبے کا دائرہ وسیع ہونا پنجاب حکومت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، ’اپنی چھت اپنا گھر‘ کا بنیادی مقصد صرف قرض فراہم کرنا نہیں بلکہ کم آمدن والے خاندانوں کو اپنی ملکیت کے گھر کی تعمیر کے قابل بنانا ہے تاکہ وہ طویل مدت میں کرائے کے بوجھ سے بھی نجات حاصل کرسکیں۔
بلال یاسین کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت نے ہاؤسنگ کے شعبے میں متعدد اقدامات کیے ہیں اور ’اپنی چھت اپنا گھر‘ اسی سلسلے کا اہم منصوبہ ہے، پروگرام کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کو اپنے گھر کی تعمیر کا موقع ملا، جبکہ منصوبے کی رفتار اور حجم نے اسے نمایاں ہاؤسنگ پروگرامز میں شامل کردیا ہے۔
صوبائی وزیر ہاؤسنگ نے تحریک انصاف کے سابق دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس دور میں اعلان کیے گئے ہاؤسنگ اہداف عملی طور پر مکمل نہیں ہوسکے، موجودہ حکومت کے منصوبوں کو سیاسی نعروں کے بجائے عملی اقدامات اور عوامی سہولت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
صوبائی وزرا نے کہا کہ ’اپنی چھت اپنا گھر‘ کو ملنے والا عالمی اعزاز پنجاب حکومت کی ہاؤسنگ پالیسی کی عالمی سطح پر پذیرائی کو ظاہر کرتا ہے، حکومت آئندہ بھی کم آمدن والے خاندانوں کو رہائش کی سہولت فراہم کرنے اور 10 لاکھ گھروں کے ہدف کی جانب پیش رفت جاری رکھے گی۔
حکومت کے مطابق پروگرام میں بلا سود قرض، میرٹ پر انتخاب اور طویل مدت میں واپسی کی سہولت جیسے اقدامات کے ذریعے کم آمدن والے خاندانوں کو اپنے گھر کی تعمیر میں مدد دی جا رہی ہے۔ عالمی اعزاز کے بعد صوبائی حکومت نے اس منصوبے کو مزید وسعت دینے اور زیادہ سے زیادہ مستحق خاندانوں تک پہنچانے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔







