قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے جمعے کو بیروت میں اپنے لبنانی ہم منصب نواف سلام سے ملاقات کے بعد بتایا کہ دونوں ممالک توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دینے اور عملی حل تلاش کرنے پر متفق ہوگئے ہیں، اس تعاون کے ذریعے لبنان کو درپیش توانائی کے مسائل سے نمٹنے اور مستقبل میں بجلی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

قطری وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجوزہ منصوبے کا مقصد ایسی بڑی سرمایہ کاری کو ممکن بنانا ہے جس سے لبنان کی معیشت کو فائدہ پہنچے اور اس منصوبے میں شریک قطری کمپنیوں اور اداروں کے لیے بھی کاروباری مواقع پیدا ہوں۔ اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

اس منصوبے میں قطر انرجی اور فرانس کی توانائی کمپنی ٹوٹل انرجیز کے درمیان طے پانے والا معاہدہ اہمیت رکھتا ہے۔ معاہدے کے تحت لبنان میں ابتدائی منصوبے کے طور پر مشترکہ طور پر سولر پاور پلانٹ تیار کیا جائے گا۔ شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا مقصد توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اور ملک کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

لبنان طویل عرصے سے بجلی کی فراہمی اور توانائی کے شعبے میں مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ ایسے میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو بجلی کی پیداوار بڑھانے اور توانائی کے نظام کو بہتر بنانے کی ممکنہ کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم مجوزہ سولر پاور پلانٹ کی پیداواری صلاحیت، تعمیراتی مدت، مقام اور منصوبے کی مجموعی لاگت سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

دوسری جانب لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے کہا کہ بجلی کے شعبے سے متعلق منصوبے جلد کابینہ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ توانائی کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ مجوزہ منصوبوں پر حکومتی سطح پر غور کیا جائے گا۔

قطر اور لبنان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان کو بجلی کی فراہمی بہتر بنانے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ قطر اور ٹوٹل انرجیز کی شراکت داری سے شمسی توانائی کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، تاہم اس کے عملی آغاز اور تکمیل کے شیڈول سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

منصوبے کی پیش رفت اور لبنانی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ واضح ہوسکے گا کہ مجوزہ سولر پاور پلانٹ ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں کس حد تک کردار ادا کرے گا۔