خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کیٹی زکریا نے 13 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس میں اپنی پہلی پریس بریفنگ کی تھی۔ یہ بریفنگ تقریباً 14 منٹ جاری رہی، جس کے دوران انہوں نے صحافیوں کے صرف تین سوالات کے جواب دیے۔ بریفنگ کے مختصر دورانیے اور سوالات کے محدود جوابات کے باعث ان کی کارکردگی پر تنقید کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب زکریا کی قانونی قابلیت اور پیشہ ورانہ اسناد سے متعلق سوالات سامنے آئے۔ بتایا گیا کہ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی، تاہم وہ وکالت کے لیے ضروری بار امتحان پاس نہیں کرسکی تھیں۔ اس حوالے سے ان کی پیشہ ورانہ اہلیت پر بحث شروع ہوئی، جس نے ان کے عہدے پر برقرار رہنے کے معاملے کو بھی نمایاں کردیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کیٹی زکریا کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق میڈیا کی جانب سے ہونے والی تنقید کے باعث زکریا کو مشکلات کا سامنا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ کیٹی زکریا اپنے عہدے سے الگ ہورہی ہیں، تاہم ان کے مستقبل کے کردار یا انتظامیہ میں کسی دوسری ذمہ داری سے متعلق فوری طور پر کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کا عہدہ امریکی انتظامیہ میں اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس عہدے پر فائز شخصیت صدر اور انتظامیہ کے مؤقف کو میڈیا کے سامنے پیش کرتی ہے اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتی ہے۔ روزانہ کی بریفنگز کے ذریعے حکومتی فیصلوں، پالیسیوں اور اہم معاملات سے متعلق معلومات فراہم کرنا بھی اس ذمہ داری کا حصہ ہوتا ہے۔

کیٹی زکریا کی مختصر مدت میں رخصتی کے بعد ان کی جگہ کسی نئے شخص کی تقرری یا عبوری انتظامات کے بارے میں تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق ان کی پہلی بریفنگ پر تنقید اور قانونی اسناد سے متعلق سوالات اس معاملے کے نمایاں پہلو رہے، تاہم ان کے عہدے سے الگ ہونے کے تمام اسباب کے بارے میں مزید سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔