تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ ارم یوسف کی عدالت میں تھانہ غازی آباد پولیس نے ملزم کو پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے واقعے کی تفصیلات، شواہد اور دیگر پہلوؤں پر تفتیش کرنا مقصود ہے، لہٰذا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو چار روز کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
یاد رہے کہ ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے واقعے کے بعد ایس ایچ او غازی آباد سمیت تھانے کے پورے عملے کو کارروائی میں تاخیر اور اعلیٰ افسران کو بروقت آگاہ نہ کرنے پر معطل کر دیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ معطل اے ایس آئی عمران مبینہ طور پر لڑکی کو موٹرسائیکل پر تھانے لایا اور گیٹ پر موجود سنتری کو بتایا کہ خاتون ملزمہ ہے اور تفتیش کے لیے لائی گئی ہے۔ الزام ہے کہ بعد ازاں انویسٹیگیشن روم میں لڑکی سے زیادتی کی گئی۔
تحقیقات کے مطابق واقعے کے بعد ملزم لڑکی کو واپس اس کے گھر چھوڑ آیا، جب کہ اہل خانہ اس کی گمشدگی کی اطلاع دینے تھانے پہنچے تھے۔ اسی دوران گھر سے اطلاع ملی کہ لڑکی واپس آ چکی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور جسمانی ریمانڈ کے دوران مزید شواہد اکٹھے کیے جائیں گے۔







