امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق سینیئر امریکی انتظامی حکام نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ بدھ کو جب شی جن پنگ کا طیارہ واشنگٹن کے مضافات میں واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز پر اترے گا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ان کے استقبال کے لیے موجود ہوں گے۔ یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ صدر ٹرمپ عموماً غیر ملکی سربراہان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کرتے ہیں۔

دورے کا اہم ترین مرحلہ جمعرات کو ہوگا، جب صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اسٹیٹ فلور پر منعقدہ استقبالیہ تقریب میں شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان کا خیرمقدم کریں گے۔

صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ روز گارڈن میں فوجی دستوں کا معائنہ بھی کریں گے، جس کے بعد دونوں رہنما بند کمرے میں مذاکرات کریں گے۔ اس دوران میلانیا ٹرمپ اور پنگ لی یوان کی الگ ملاقات ہوگی، تاہم جمعے کو صحافیوں کو بریفنگ دینے والے حکام نے اس ملاقات کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

سرکاری عشائیے کے مہمانوں کی فہرست جاری

جمعرات کی شب صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان اس سرکاری عشائیے میں مہمانِ خصوصی ہوں گے جو صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں چینی وفد کے اعزاز میں دیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اس عشائیے کو ایسا پروگرام قرار دیا ہے جس میں ہر کوئی شرکت کرنا چاہتا ہے۔ دونوں رہنما تقریب سے خطاب بھی کریں گے۔

ٹرمپ نے جمعے کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں لوگ اس عشائیے میں شرکت کرنا چاہیں گے۔

وائٹ ہاؤس نے سرکاری عشائیے کے کچھ مہمانوں کے نام جاری کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق عشائیے میں شریک کاروباری رہنماؤں میں ایمازون کے بانی جیف بیزوس، ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک، گوگل کے سندر پچائی اور ڈیل ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو مائیکل ڈیل سمیت ٹیکنالوجی کے شعبے کی کئی اہم شخصیات شامل ہیں۔

بعدازاں جمعے کو شی جن پنگ اور پنگ لی یوان دوبارہ وائٹ ہاؤس آئیں گے، جہاں ان کی صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول کے ساتھ چائے کی نجی نشست ہوگی۔ اس کے بعد ٹرمپ جوڑے کو نیشنل آرکائیوز کا دورہ کرائیں گے۔

ٹیرف، اے آئی اور نایاب معدنیات ایجنڈے میں

امریکی حکام نے دورے کے دیگر اہم پالیسی امور کے بارے میں بتایا کہ امریکا اور چین بعض غیر اسٹریٹجک اشیا پر عائد ٹیرف میں کمی کے لیے تیار ہوسکتے ہیں۔ سینیئر امریکی حکام کے مطابق اس اقدام سے محدود نوعیت کی اشیا متاثر ہوسکتی ہیں، جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

حکام نے تاہم کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ امریکا اپنی برآمدی پابندیوں میں ایسی نرمی کے لیے تیار ہوگا جس سے نایاب معدنیات کی عالمی منڈی میں رسد میں نمایاں اضافہ ہوسکے۔ یہ معدنیات مختلف مصنوعات میں استعمال ہونے والے اہم اجزا ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ ہفتے کے اختتام پر نیویارک میں چین کے نائب وزیراعظم حے لِفِنگ سے الگ ملاقات کریں گے، جس میں متعدد اقتصادی امور پر بات ہوگی۔ منصوبے سے واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مصنوعی ذہانت بھی مذاکرات کا اہم موضوع ہوگی۔

ایجنڈے میں چین کے پاس موجود نایاب معدنیات کے ذخائر بھی شامل ہوں گے، جو اسمارٹ فونز سے لے کر لڑاکا طیاروں تک مختلف مصنوعات کی تیاری کے لیے ضروری ہیں۔ بیجنگ نے ان معدنیات پر اپنی مضبوط پوزیشن کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایک اہم معاملے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مئی میں چین کا دورہ کیا تھا اور اپنے پہلے صدارتی دور میں بھی چین گئے تھے، جہاں انہوں نے شی جن پنگ سے مذاکرات کیے تھے۔ اس موقع پر چینی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب کا پرتکلف استقبال کیا تھا۔

شی جن پنگ آخری مرتبہ ستمبر 2015 میں امریکا کے سرکاری دورے پر آئے تھے، جب ڈیموکریٹ صدر براک اوباما کے دورِ حکومت میں انہوں نے امریکا کا دورہ کیا تھا۔