انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری کے مطابق نئے ورڈ مارک کو پہلے سے زیادہ جدید اور واضح بنایا گیا ہے، جب کہ اس میں انسٹاگرام کے اصل لوگو سے مشابہت بھی برقرار رکھی گئی ہے۔
نئے ڈیزائن میں s، r اور g سمیت بعض حروف میں قدرے خم دار اور کرسیو انداز اپنایا گیا ہے، جس کے باعث لوگو پہلے کے مقابلے میں زیادہ نرم اور رواں نظر آتا ہے۔
نئے لوگو کے سامنے آنے کے بعد صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ بعض صارفین نے اسے جدید، صاف ستھرا اور تازہ قرار دیا، جب کہ کچھ نے نئے ڈیزائن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عجیب قرار دیا۔
کچھ صارفین نے نئے ورڈ مارک کے حرف r کو کشتی کے بادبان سے تشبیہ دی، جب کہ بعض نے مذاقاً اسے ’Instagzam‘ قرار دیا۔ ایک صارف نے نئے ڈیزائن کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تحریر سے بھی تشبیہ دی۔
انسٹاگرام کا آخری بڑا بصری ری ڈیزائن 2016 میں سامنے آیا تھا، جب کمپنی نے پرانے ریٹرو کیمرہ آئیکن کو ختم کرکے موجودہ گلابی، نارنجی اور جامنی گریڈیئنٹ والے آئیکن کو متعارف کرایا تھا۔
حالیہ تبدیلی میں تاہم صرف ورڈ مارک کو تبدیل کیا گیا ہے اور ایپ کا آئیکن بدستور وہی ہے جسے صارفین گزشتہ ایک دہائی سے دیکھتے آرہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ورڈ مارک میں تبدیلی نسبتاً کم خطرناک اقدام ہے کیونکہ صارفین عموماً انسٹاگرام کو اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے مخصوص رنگ اور مربع آئیکن سے پہچانتے ہیں۔
انسٹاگرام میں گزشتہ برسوں کے دوران بھی کئی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور پلیٹ فارم اب صرف تصاویر شیئر کرنے والی ایپ تک محدود نہیں رہا بلکہ ویڈیوز، پیغام رسانی، خریداری اور مصنوعی ذہانت سمیت متعدد فیچرز کا مرکز بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں: یوٹیوب نے اپنی مونیٹائزیشن پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کر دیا، نئی شرائط کیا ہیں؟
نئے ورڈ مارک کے اعلان کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا مستقبل میں انسٹاگرام کے ایپ آئیکن میں بھی تبدیلی کی جائے گی یا موجودہ آئیکن برقرار رکھا جائے گا۔ کمپنی کی جانب سے فی الحال نئے آئیکن سے متعلق کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔
یوں ایک دہائی بعد انسٹاگرام نے اپنے نام کے انداز کو تو بدل دیا ہے، تاہم وہ مشہور آئیکن جسے دنیا بھر میں اربوں صارفین روزانہ پہچانتے ہیں، فی الحال اپنی جگہ موجود ہے۔







