یونیورسٹی آف شکاگو کی کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ تعداد معمول کے مقابلے میں اضافی گرمی سے ہونے والی ممکنہ اموات کا تخمینہ ہے۔ محققین نے مختلف علاقوں کے درجہ حرارت کے موسمیاتی اندازوں اور ماضی میں درجہ حرارت میں اضافے کے دوران اموات کے اعداد و شمار کو استعمال کرتے ہوئے یہ تخمینہ تیار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال کا ایل نینو غیر معمولی شدت اختیار کرسکتا ہے اور اس کے باعث عالمی سطح پر زمین کا درجہ حرارت معمول سے تقریباً 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران انتہائی گرم دنوں کی تعداد بھی معمول کے مقابلے میں تقریباً 44 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق شدید گرمی کا اثر دنیا کے ان علاقوں میں زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے جہاں پہلے ہی درجہ حرارت بلند رہتا ہے اور آبادی کے ایک بڑے حصے کو ایئر کنڈیشننگ، صاف پانی، صحت کی سہولیات اور دیگر حفاظتی وسائل تک محدود رسائی حاصل ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں افریقہ کے ساحل خطے کو شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اگلے چھ ماہ کے دوران اس خطے میں تقریباً 66 ہزار 800 اضافی اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نائیجیریا میں شدید گرمی کے باعث تقریباً 31 ہزار 400 اضافی اموات کا خدشہ ہے، جبکہ سوڈان میں یہ تعداد 17 ہزار 600 اور نائجر میں تقریباً 10 ہزار تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ چاڈ میں بھی تقریباً 8 ہزار اضافی اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا بھی ایل نینو سے پیدا ہونے والی شدید گرمی کی زد میں آسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق فلپائن، ویتنام، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں مجموعی طور پر تقریباً 19 ہزار 400 اضافی اموات کا خدشہ ہے، جبکہ انڈونیشیا میں تقریباً 19 ہزار 300 اضافی اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں بھی رواں ایل نینو کے دوران تقریباً 15 ہزار 800 اضافی گرمی سے متعلق اموات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایل نینو کا اثر 2027 تک جاری رہا تو بھارت اور پاکستان سمیت شمالی نصف کرہ کے بعض علاقوں میں آنے والے موسم گرما کے دوران گرمی سے متعلق خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق برازیل میں بھی تقریباً 13 ہزار 300 اضافی اموات کا خدشہ ہے، جبکہ دیگر گرم خطوں میں بھی معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے باعث صحت عامہ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جو بحرالکاہل کے مرکزی اور مشرقی حصے میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے پیدا ہوتا ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں بارش، خشک سالی اور درجہ حرارت کے معمولات کو متاثر کرسکتا ہے۔

کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے مطابق رواں سال کا ایل نینو پہلے ہی بلند عالمی درجہ حرارت کے ماحول میں سامنے آیا ہے، جس کے باعث اس کے اثرات مزید نمایاں ہوسکتے ہیں۔ تحقیق میں موجودہ صورتحال کو مستقبل کے ان موسمی حالات کی ایک جھلک قرار دیا گیا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والی دہائیوں میں معمول بن سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شدید گرمی سے ہونے والی اموات کو کم کرنے کے لیے بروقت اقدامات انتہائی اہم ہیں، ابتدائی وارننگ سسٹم، ہیٹ ایکشن پلانز، کولنگ سینٹرز، پانی کی دستیابی اور شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے تحفظ جیسے اقدامات کو مؤثر قرار دیا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ہنگامی اقدامات کو ان علاقوں میں ترجیح دینے سے جہاں گرمی سے اموات کا خطرہ زیادہ ہے، آنے والے مہینوں میں ہزاروں جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے مطابق موجودہ پیش گوئی فیصلہ سازوں کو یہ شناخت کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ کن علاقوں میں فوری اقدامات کی زیادہ ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق شدید گرمی کا خطرہ صرف فوری صحت کے مسائل تک محدود نہیں بلکہ پانی کی قلت، جنگلات میں آگ، خشک سالی، فصلوں کو نقصان اور غذائی تحفظ کے مسائل کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ ایل نینو کے ساتھ بدلتے ہوئے بارش کے نظام بعض علاقوں میں خشک سالی جبکہ دیگر علاقوں میں شدید بارش اور سیلاب کے خطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق 4 لاکھ 51 ہزار کا تخمینہ موجودہ موسمی پیش گوئی کی مدت سے متعلق ہے اور ایل نینو کے اثرات فروری 2027 کے بعد بھی بعض علاقوں میں گرمی سے متعلق اموات کی صورت میں برقرار رہ سکتے ہیں۔ خاص طور پر بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں شمالی نصف کرہ کے موسم گرما کے دوران خطرات دوبارہ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یاد ر ہے کہ موجودہ صورتحال دنیا کے لیے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے صرف ہنگامی اقدامات کافی نہیں بلکہ طویل مدتی بنیادوں پر موسمیاتی موافقت، صحت عامہ کے نظام، شہری منصوبہ بندی اور گرمی سے بچاؤ کے اقدامات کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔