ایپل کے مطابق یہ حملے عام سائبر جرائم کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور محدود افراد کو نشانہ بنانے والے ہوتے ہیں، جن میں صحافی، کارکن، سیاست دان اور سفارت کار بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ایپل نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی صارف کو اس نوعیت کا الرٹ موصول ہو تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم یہ اطلاع لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ ڈیوائس کامیابی سے ہیک ہو چکی ہے بلکہ یہ ایپل کی جانب سے اس بات کا اعلیٰ اعتماد والا انتباہ ہے کہ صارف کو ممکنہ طور پر انتہائی جدید اسپائی ویئر حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایپل کا نیا الرٹ کیسے نظر آئے گا؟
کمپنی کے مطابق اب 'تھریٹ نوٹیفیکیشنز' براہ راست آئی فون کی 'لاک اسکرین' اور 'سیٹینگز' میں ظاہر ہوگی۔ صارف کو ای میل کے ذریعے بھی اطلاع دی جائے گی، جب کہ اپنے ایپل اکاؤنٹ میں لاگ اِن کرنے کے بعد account.apple.com پر بھی یہ الرٹ نظر آئے گا۔
الرٹ میں صارف کو بتایا جائے گا کہ ایپل نے اس کے آئی فون کو اسپائی ویئر حملے کا ممکنہ ہدف قرار دیا ہے اور اسے اپنی ڈیوائس اور ڈیٹا کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔
ایپل نے کتنے ممالک میں صارفین کو خبردار کیا؟
ایپل نے بتایا کہ تازہ ترین مرحلے میں 110 ممالک کے صارفین کو اطلاعات بھیجی گئی ہیں، جب کہ 2021 میں یہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد کمپنی اب تک 150 سے زائد ممالک میں صارفین کو ایسے 'تھریٹ نوٹیفیکیشنز' بھیج چکی ہے۔
کمپنی کے مطابق ان حملوں کی انتہائی مہنگی، پیچیدہ اور عالمی نوعیت انہیں موجودہ دور کے جدید ترین ڈیجیٹل خطرات میں شامل کرتی ہے۔
کیا الرٹ ملنے کا مطلب فون ہیک ہو چکا ہے؟
ضروری نہیں۔ ایپل کے مطابق 'تھریٹ نوٹیفیکیشنز' کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی نے ایسی سرگرمی کا پتا لگایا ہے جو mercenary spyware attack سے مطابقت رکھتی ہے۔
کمپنی اسے ایک high-confidence alert قرار دیتی ہے، لیکن وہ یہ نہیں کہتی کہ ہر صورت میں ڈیوائس کامیابی سے compromise ہو چکی ہے۔
ایپل یہ بھی نہیں بتاتا کہ کسی مخصوص صارف کو الرٹ بھیجنے کے لیے کون سی تکنیکی معلومات یا indicators استعمال کیے گئے، کیونکہ اس سے اسپائی ویئر تیار کرنے والوں کو اپنے طریقہ کار تبدیل کرکے ایپل کی detection سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
لاک ڈاؤن موڈ کیوں اہم ہے؟
ایپل متاثرہ صارفین کو لاک ڈاؤن موڈ فعال کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ یہ آئی فون، آئی پیڈ اور میک کی کچھ functionality محدود کرکے انتہائی پیچیدہ targeted cyberattacks کے امکانات کم کرتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اسے اب تک ایسا کوئی کیس نہیں ملا جس میں لاک ڈاؤن موڈ فعال ہونے کے دوران کسی صارف کی ڈیوائس کامیابی سے ہیک کی گئی ہو۔
ایپل ایسے صارفین کو ماہرین سے مدد لینے کا بھی مشورہ دیتا ہے، بالخصوص Access Now کی Digital Security Helpline جیسی سروسز سے۔

یہ اسپائی ویئر کس نوعیت کا ہوتا ہے؟
Mercenary spyware عام موبائل malware سے مختلف ہوتا ہے۔ ایسے حملوں میں انتہائی زیادہ مالی وسائل، جدید تکنیک اور خصوصی مہارت استعمال کی جاتی ہے اور عموماً بہت محدود تعداد میں مخصوص افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ایپل کے مطابق عوامی رپورٹس اور سول سوسائٹی کی تحقیقات میں ایسے حملوں کا تعلق تاریخی طور پر ریاستی عناصر یا ان کی جانب سے کام کرنے والی نجی کمپنیوں سے سامنے آتا رہا ہے۔ Pegasus جیسے اسپائی ویئر کا نام بھی اسی تناظر میں سامنے آتا رہا ہے۔
تاہم ایپل اپنی 'تھریٹ نوٹیفیکیشنز' کو کسی مخصوص حکومت، ملک یا حملہ آور گروپ سے منسوب نہیں کرتا۔
صحافی اور کارکن کیوں نشانے پر آ سکتے ہیں؟
ایسے حملوں کا ہدف عام طور پر ہر صارف نہیں ہوتا۔ جدید mercenary spyware مہنگا اور پیچیدہ ہونے کی وجہ سے مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایپل کے مطابق صحافی، انسانی حقوق کے کارکن، سیاسی شخصیات اور سفارت کار ان افراد میں شامل رہے ہیں جنہیں اس نوعیت کے targeted attacks کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس تحقیقاتی ادارے Citizen Lab کے سینئر محقق جان اسکاٹ ریلٹن کے مطابق ایپل کے یہ الرٹس صرف ایک فرد کو خبردار نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات ایک بڑے spyware campaign کا سراغ بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایک شخص کو الرٹ ملنے کے بعد مزید تحقیقات سے اسی مہم کے دیگر متاثرین کا بھی پتا چل سکتا ہے۔
ایپل کا الرٹ جعلی ہو تو کیسے پہچانیں؟
ایپل نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ حقیقی 'تھریٹ نوٹیفیکیشنز' کبھی بھی ان سے ای میل یا فون کے ذریعے ایپل اکاؤنٹ کا پاس ورڈ یا ویریفیکیشن کوڈ فراہم کرنے کا مطالبہ نہیں کرتی۔
اسی طرح ایپل کا 'تھریٹ نوٹیفیکیشنز' صارف کو کسی لنک پر کلک کرنے، فائل کھولنے یا کوئی ایپ یا configuration profile انسٹال کرنے کا نہیں کہتا۔
الرٹ کی تصدیق کے لیے صارف خود account.apple.com پر لاگ اِن کر سکتا ہے۔ اگر ایپل نے واقعی 'تھریٹ نوٹیفیکیشنز' جاری کی ہے تو وہ ایپل اکاؤنٹ صفحے کے اوپر واضح طور پر دکھائی دے گی۔

اگر الرٹ موصول ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
ایپل عام طور پر یہ اقدامات تجویز کرتا ہے کہ ڈیوائس کو تازہ ترین سوفٹ ویئر ورژن پر اپڈیٹ کریں۔ لاک ڈاؤن موڈ فعال کریں۔ ایپل اکاؤنٹ پر مضبوط اور منفرد پاسورڈ استعمال کریں۔ Two-factor authentication فعال رکھیں۔
ان کے علاوہ Stolen Device Protection آن کریں۔ غیر معروف ذرائع سے موصول ہونے والے links یا attachments نہ کھولیں۔ ماہرین یا قابلِ اعتماد digital security organisation سے مدد لیں۔
عام صارفین کے لیے خطرہ کتنا ہے؟
ایپل کے مطابق صارفین کی بہت بڑی اکثریت کبھی mercenary spyware کا ہدف نہیں بنے گی۔ تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ تمام صارفین کو بنیادی cybersecurity احتیاطیں اختیار کرنی چاہییں کیونکہ عام phishing، malware اور account attacks کا خطرہ الگ موجود رہتا ہے۔
ایپل نے 2021 سے متعدد مرتبہ ایسے 'تھریٹ نوٹیفیکیشنز' جاری کیے ہیں، جب کہ حالیہ 110 ممالک تک پھیلاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتہائی جدید surveillance technology اب بھی عالمی سطح پر استعمال ہو رہی ہے۔







