اوپن اے آئی نے یہ اعلان 29 ستمبر کو سان فرانسسکو میں ہونے والی سالانہ دیوڈے کانفرنس کے دوران کیا۔ کمپنی کے مطابق ڈاٹس ایسے ہمیشہ فعال اے آئی ایجنٹس ہیں جو صارف کی جانب سے دیے گئے کاموں کو کم سے کم نگرانی کے ساتھ آگے بڑھا سکتے ہیں۔
ڈاٹس کیا کرسکتے ہیں؟
اوپن اےآئی کے مطابق ڈاٹس بدلتے ہوئے پروجیکٹس کو بھی خود سنبھال سکتے ہیں، مثلاً صارف کی ضروریات تبدیل ہونے پر سیلز پروپوزل کو اپ ڈیٹ کرنا یا جائزے کے لیے ایک قابلِ استعمال ڈیمو تیار کرنا۔
یہ ایجنٹس سلیک اور مائیکروسافٹ ٹیمز کے ذریعے صارفین سے رابطہ کرسکتے ہیں جب کہ تحقیق، ڈیٹا کے تجزیے، دستاویزات کی تیاری اور سافٹ ویئر بنانے کے لیے اوپن اے آئی کے کوڈیکس اور چیٹ جی پی ٹی ورک جیسے ٹولز استعمال کرسکتے ہیں۔
ڈاٹس کو جی پی ٹی-6 ایسٹرا پر چلایا جارہا ہے، جو اوپن اے آئی کا پیچیدہ، کئی مراحل پر مشتمل کام، کوڈنگ، تحقیق اور کمپیوٹر استعمال کے لیے تیار کردہ ماڈل ہے۔
اے آئی ایجنٹس کی نئی دوڑ
ڈاٹس کی لانچ کے ساتھ اوپن اے آئی نے مصنوعی ذہانت کی صنعت میں چیٹ بوٹس سے آگے بڑھ کر ایسے سافٹ ویئر کی دوڑ میں قدم مزید آگے بڑھایا ہے جو صارف کی جانب سے خود کام کرسکیں۔
اوپن اے آئی کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میٹا بھی اپنے اے آئی ایجنٹ میوز کے ذریعے اسی شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ یوں دونوں کمپنیوں کے درمیان کاروباری اداروں کے لیے خودکار اے آئی سروسز فراہم کرنے کی مسابقت مزید نمایاں ہوگئی ہے۔
اوپن اےآئی کے لیے انٹرپرائز مارکیٹ خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ کمپنی بڑے کاروباری صارفین سے آمدنی بڑھانے اور اےآئی انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو تیزی سے وسعت دے رہی ہے۔
ڈاٹس کی لانچ کے دوران اوپن اےآئی کے لائیو مظاہرے مکمل طور پر ہموار نہیں رہے۔ تقریب میں ایجنٹس کی جانب سے صارفین کی درخواست پر صوتی اپ ڈیٹس فراہم کرنے میں بار بار مشکلات پیش آئیں۔
اوپن اے آئی کے ایک عہدیدار نے اسٹیج پر تسلیم کیا کہ اس وقت صوتی نظام میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بعد میں ایک کمپنی ملازم نے بتایا کہ ایک ہی وقت میں متعدد اپ ڈیٹس جاری کیے جانے کی وجہ سے یہ مسائل سامنے آئے۔
ڈیٹا پرائیویسی اور حفاظتی خدشات
خودمختار اےآئی ایجنٹس کی صلاحیتوں کے ساتھ ان کی حفاظت اور ڈیٹا پرائیویسی بھی اہم سوال بن گئی ہے۔ اوپن اےآئی نے ڈاٹس میں ایسے حفاظتی فیچرز شامل کرنے کا اعلان کیا ہے جن کے ذریعے صارفین طے کرسکتے ہیں کہ ایجنٹ کیا کام کرسکتا ہے اور کن معاملات میں اجازت لینا ضروری ہوگی۔
کمپنی کے مطابق پاس ورڈ تبدیل کرنے یا مستقل طور پر ڈیٹا حذف کرنے جیسے حساس کاموں کے لیے صارف کی واضح اجازت درکار ہوگی۔
ڈاٹس اپنے الگ کلاؤڈ کمپیوٹرز پر چلیں گے، جب کہ اوپن اے آئی نے کاروباری صارفین کے ڈیٹا کو ان کی اجازت کے بغیر اےآئی کی تربیت کے لیے استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
اوپن اےآئی کو حالیہ مہینوں میں اپنے خودمختار اےآئی ایجنٹس کے بعض حفاظتی واقعات پر بھی سوالات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث کمپنی کی جانب سے نئے ایجنٹ سسٹمز کے لیے حفاظتی اقدامات پر زیادہ زور دیا جارہا ہے۔
اوپن اےآئی کی مزید نئی مصنوعات
دیوڈے کے موقع پر اوپن اےآئی نے ڈاٹس کے ساتھ جی پی ٹی-6.1 سول، چیٹ جی پی ٹی اسپیس اور دیگر ڈویلپر ٹولز بھی متعارف کرائے۔
کمپنی کے مطابق کوڈیکس اور چیٹ جی پی ٹی ورک کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 35 ملین سے تجاوز کرچکی ہے، جب کہ صارفین کے لیے چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 1.2 ارب سے زیادہ ہے۔
اوپن اےآئی کا ڈاٹس کے ذریعے مقصد صرف سوالات کے جوابات دینے والے چیٹ بوٹ سے آگے بڑھ کر ایسے اےآئی نظام فراہم کرنا ہے جو صارف کے لیے کام کو خود انجام دیں، اس کی نگرانی کریں اور بدلتی ضروریات کے مطابق اسے آگے بڑھاتے رہیں۔







