عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق طیارے میں سوار مسافروں کا کہنا ہے کہ پرواز کے دوران کاک پٹ میں موجود دو پائلٹس کے درمیان جھگڑا ہوا اور ایک پائلٹ کو چاقو مارا گیا۔
اس واقعے کے ابتدائی ردعمل میں اسرائیلی فضائیہ نے اپنے جنگی طیارے روانہ کیے، جب کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فوری مشاورت بھی کی۔
بی بی سی عربی کے یروشلم میں موجود نامہ نگار کے مطابق یہ صورتحال اُس وقت پیش آئی جب ایک پائلٹ نے طیارے کا رُخ تبدیل کیا۔ طیارہ پہلے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور بعد ازاں اس کا راستہ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا۔
فلائی دبئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ پرواز کو سفر کے دوران ’ایک واقعے‘ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم تمام مسافر محفوظ ہیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن ’فلائی دبئی‘ کی پرواز نمبر ایف زیڈ 1073 بدھ کو علی الصبح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی تھی۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق روانگی کے تقریباً دو گھنٹے بعد طیارے کی جانب سے کوڈ نمبر 7700 نشر کیا گیا، جو ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
کچھ ہی منٹ بعد طیارے نے کوڈ نمبر 7500 بھی نشر کیا، جو عموماً طیارے میں غیر قانونی مداخلت یا ہائی جیکنگ جیسے واقعے کی اطلاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم بعد میں اسے دوبارہ عمومی ہنگامی سگنل میں تبدیل کر دیا گیا۔
فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے نے پرواز بھرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد سعودی عرب کی فضائی حدود میں اچانک تیزی سے بلندی کم کرنا شروع کر دی اور پاکستانی وقت کے مطابق 10 بج کر 21 منٹ کے فوراً بعد طیارہ دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے آ گیا۔
اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرواز مختصر وقت کے لیے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوئی، تاہم چند منٹ بعد دوبارہ سعودی عرب کی فضائی حدود میں واپس آ گئی۔
تل ابیب جانے والی اس پرواز نے سعودی عرب کے شمال مشرقی شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی۔ خبر رساں اداروں اور اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرنے والے مسافروں اور ان کے اہل خانہ نے واقعے کی تفصیلات بتائی ہیں۔
پرواز میں سوار ایک خاتون مسافر مریم کی والدہ یاسمین ابو قسیس نے خبر رساں اداروں اے پی اور روئٹرز کو بتایا کہ ان کی بیٹی نے فون پر اطلاع دی کہ طیارے میں چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی اور ایک پائلٹ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔
یاسمین کے مطابق ان کی بیٹی نے بتایا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے طیارہ قابو سے باہر ہو رہا ہو، جس پر مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یاسمین ابو قسیس کے مطابق اُن کی بیٹی مریم نے انھیں بتایا کہ ایک شخص نے چاقو کے زور پر پائلٹوں میں سے ایک کو زمین پر گرایا ہوا تھا، جب کہ طیارے کے اندر ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔
یاسمین ابو قسیس نے روئٹرز کو بتایا کہ بعد ازاں دو دیگر پائلٹس نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا، جب کہ مسافر ایک ایسے شخص کی طرف بڑھے جس کے ہاتھ میں چاقو تھا۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ سے گفتگو کرنے والے ایک مسافر نے کہا کہ ایک پائلٹ کو دوسرے پائلٹ نے چاقو مارا تھا، تاہم طیارے کے اگلے حصے میں موجود مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو کاک پٹ سے باہر نکالنے میں مدد کی۔
اسی مسافر کا مزید کہنا تھا کہ طیارے کے پچھلے حصے میں موجود دو دیگر پائلٹس نے بعد میں پرواز کی ذمہ داری سنبھالی اور طیارے کو بحفاظت اتارنے میں مدد کی۔
ایک اور مسافر الموگ اٹالی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ دونوں پائلٹ ’ریلیف پائلٹس‘ تھے، جنھیں بعد میں ایک دوسری پرواز کی ذمہ داریاں سنبھالنی تھیں۔
اٹالی کے مطابق ان میں سے ایک پائلٹ برطانوی تھا، جب کہ دوسرے کے بارے میں انھوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ یورپی تھے، تاہم ان کی قومیت نہیں بتائی۔
اٹالی کا کہنا تھا کہ کاک پٹ کے اندر پیش آنے والے واقعے کی درست تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، تاہم ان کے مطابق ریلیف پائلٹس نے طیارے کو دوبارہ قابو میں لیا اور اسے سعودی عرب میں بحفاظت اتارا۔
طیارے میں موجود ایک اسرائیلی مسافر نے صحافیوں کو بتایا کہ عملے نے مسافروں سے مدد طلب کی، جس کے بعد بعض مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا اور اسے باندھ دیا۔
اخبار اسرائیل ہیوم سے بات کرنے والی ایک خاتون مسافر نے کہا کہ مسافروں نے یہ سمجھا کہ پائلٹس طیارے کا کنٹرول کھو بیٹھے ہیں۔ ان کے بقول ایک پائلٹ کو چاقو کے زخم آئے تھے، جو سنگین نوعیت کے تھے اور کچھ مسافروں کے کپڑوں پر خون بھی لگا ہوا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ کے مطابق اسرائیلی چیف آف اسٹاف نے واقعے کی ابتدائی تفصیل ملنے کے بعد ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد کیا، جس میں فضائیہ کے کمانڈر، آپریشنز کے سربراہ، انٹیلیجنس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے شرکت کی۔
ترجمان نے بتایا کہ اجلاس کے دوران واقعے سے متعلق تازہ ترین معلومات، ممکنہ سکیورٹی خدشات اور فوجی ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام طیارے سے موصول ہونے والے ہنگامی سگنلز کے بعد صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔ اس دوران بعض اسرائیلی حکام نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ایک ’بڑا سانحہ‘ ٹل گیا۔
سعودی عرب میں اتاری جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے ایک متبادل طیارہ تبوک روانہ کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ لڑائی کس بات پر ہوئی اور حملہ آور کون تھا۔ اس حوالے سے مزید معلومات آنا ابھی باقی ہیں۔







