مارشین مونز ایکسپلوریشن (ایم ایم ایکس) نامی اس مشن کے تحت خلائی جہاز مریخ کے دونوں چاندوں فوبوس اور دیموس کا جائزہ لے گا، جبکہ فوبوس سے نمونے حاصل کرکے زمین پر واپس لانے کی کوشش بھی کرے گا۔
ناسا کی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر نکی فاکس کے مطابق، اس مشن سے حاصل ہونے والے نمونے مستقبل میں مریخ پر انسانوں کو بھیجنے کے منصوبوں کی تیاری میں مدد دے سکتے ہیں۔
مریخ کے چاندوں پر تحقیق کیوں اہم ہے؟
سائنس دانوں کو امید ہے کہ مریخ کے چاندوں پر تحقیق سے نظام شمسی کی تشکیل اور ہماری دنیا کے وجود میں آنے کے بارے میں اہم معلومات مل سکیں گی۔
ایک نظریے کے مطابق، زمین کا چاند اس وقت وجود میں آیا جب خلا میں گردش کرنے والا ایک بڑا جسم زمین سے ٹکرایا۔ اس تصادم کے نتیجے میں پھیلنے والا ملبہ زمین کے مدار میں جمع ہوا، جہاں کششِ ثقل نے اسے جوڑ کر وقت کے ساتھ چاند کی شکل دے دی۔
فوبوس اور دیموس کی تشکیل کے بارے میں بھی ایسے ہی نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ ان چاندوں سے نمونے حاصل کرکے زمین پر ان کا تجزیہ کرنے سے سائنس دانوں کو ان نظریات کی جانچ اور چاندوں کی تاریخ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مریخ کے سفر کی ٹیکنالوجی کی آزمائش
اس مشن کا ایک اہم مقصد ان ٹیکنالوجیز کی آزمائش بھی ہے جو مستقبل میں مریخ تک انسانی سفر کے لیے ضروری ہو سکتی ہیں۔ اس سے ناسا اور جاپانی خلائی ادارے کو مریخ تک جانے اور وہاں سے واپس آنے کے لیے درکار تکنیکی صلاحیتوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
جاپانی خلائی ادارے کے شیڈول کے مطابق، اگر مشن منصوبے کے مطابق آگے بڑھا تو خلائی جہاز اگست 2027 میں مریخ کے مدار تک پہنچے گا، نومبر 2030 میں وہاں سے واپسی کا سفر شروع کرے گا اور جولائی 2031 میں زمین پر واپس پہنچے گا۔ اس طرح مشن کی تکمیل میں تقریباً پانچ سال لگیں گے۔







