امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یوکرینی حکام کو اسٹارلنک کے فوجی استعمال کے لیے تیار کردہ نظام ’اسٹارشیلڈ‘ پر عائد رفتار کی پابندیوں سے پیشگی آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ 100 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے چلنے والی گاڑیوں اور فوجی آلات پر نصب ٹرمینلز کا رابطہ منقطع ہوسکتا ہے۔

یوکرین کے صدارتی مشیر سرہی بیسکریستنوف نے کہا کہ پابندی کے باعث یوکرینی دفاعی فورسز کے متعدد آپریشنز متاثر ہوئے ہیں۔

یوکرینی وزارتِ دفاع سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق اس صورتِ حال سے ڈرون مشنز، فوجی رسد، نگرانی اور محاذوں پر مواصلاتی رابطوں میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

یوکرین کی وزارتِ دفاع مبینہ طور پر امریکا، اسپیس ایکس اور نیٹو اتحادیوں سے رابطے میں ہے اور متبادل مواصلاتی ذرائع کی جانچ کر رہی ہے۔ یوکرینی حکام نے اسپیس ایکس سے پابندیوں کی وجہ بتانے اور سابقہ سروس بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اسٹارلنک سروس سے متعلق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یوکرین پر روسی توانائی تنصیبات پر طویل فاصلے سے حملے روکنے کے لیے دباؤ بڑھایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے خبردار کیا تھا کہ حملے جاری رہنے کی صورت میں یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون اور امریکی ہتھیاروں کی خریداری کے انتظامات متاثر ہوسکتے ہیں۔

اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے روسی ایندھن تنصیبات پر حملوں سے متعلق مؤقف پر تنقید کی تھی۔ تاہم، دستیاب رپورٹ میں اسٹارلنک کی پابندیوں اور سیاسی کشیدگی کے درمیان براہِ راست تعلق کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی کے مطابق روس نے کیف اور خارکیف سمیت مختلف علاقوں میں 120 سے زیادہ ڈرونز اور 39 بیلسٹک میزائل داغے، جن میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق حملوں کے نتیجے میں 6 لاکھ سے زیادہ افراد بجلی سے محروم ہوگئے جب کہ تیل اور گیس کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔

زیلنسکی نے ان حملوں کو امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ مبینہ ’توانائی جنگ بندی‘ کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

اسٹارلنک کی پابندیوں اور توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد یوکرین کے لیے فوجی رابطوں، فضائی دفاع اور توانائی کی بحالی کے مسائل مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔ تاہم، سروس کی پابندیوں کے مکمل اثرات اور ان کے پیچھے وجوہات کے بارے میں مزید تصدیق درکار ہے۔