دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تنازع کی جڑ براہِ راست فواد چوہدری اور افنان اللہ کے درمیان نہیں تھی۔ معاملہ دراصل عمران خان کی صحت، ان کی جیل میں موجودگی اور کھیل کے میدان میں سیاست کے ذکر سے شروع ہوا۔
کہانی کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟
اگست 2026 کے دوران عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کے علاج کا معاملہ ایک مرتبہ پھر عالمی کرکٹ حلقوں میں زیرِ بحث آگیا۔
23 اگست 2026 کو 21 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کے طبی معائنے اور صحت کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
خط پر انڈیا کے سابق کپتان سنیل گاوسکر، کپل دیو اور دلیپ وینگسرکر سمیت مختلف ممالک کے سابق کپتانوں کے دستخط تھے۔ یہ چھ ماہ کے دوران اس نوعیت کی دوسری اپیل تھی۔
اسی پس منظر میں سابق پاکستانی کپتان اور سابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے عمران خان کی صورتحال پر گفتگو کی۔
25 اگست کے آس پاس سامنے آنے والے ایک پوڈکاسٹ میں رمیز راجہ سے عمران خان کی جسمانی حالت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ رمیز راجہ نے بتایا کہ عمران خان تنہائی میں ہیں اور تقریباً تین سال سے جیل میں ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے لیے یہ عرصہ مشکل رہا ہے، تاہم وہ اپنے مضبوط مزاج کی وجہ سے حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل عمران خان کی آنکھ سے متعلق مسئلہ پیدا ہوا تھا جو بظاہر بہتر ہوگیا تھا۔
یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب عمران خان کے علاج اور جیل میں سہولیات کے معاملے پر بین الاقوامی کرکٹ شخصیات بھی آواز اٹھا رہی تھیں۔
پھر معاملہ کرکٹ سے سیاست تک کیسے پہنچا؟
اس بحث کے ساتھ ساتھ ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا۔ 27 اگست کو لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے دوران عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کا اسکائی اسپورٹس پر انٹرویو نشر ہوا، جس میں انہوں نے اپنے والد کی صحت اور جیل میں حالات کے بارے میں شدید خدشات کا اظہار کیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس انٹرویو پر اسکائی اسپورٹس سے شکایت بھی کی، کیونکہ پی سی بی کے مطابق کھیل کے دوران سیاسی نوعیت کا مواد نشر ہونا مسئلہ تھا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق پی سی بی نے اس معاملے پر برطانوی کرکٹ حکام سے بھی رابطہ کیا۔
یوں ایک طرف عمران خان کی صحت کا معاملہ عالمی کرکٹ حلقوں میں زیر بحث تھا اور دوسری طرف پاکستان میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ کیا کھیلوں کے عالمی پلیٹ فارمز کو سیاسی معاملات کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے؟ یہی وہ ماحول تھا جس میں سینیٹر افنان اللہ خان نے رمیز راجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
افنان اللہ نے رمیز راجہ کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کردیا
29 اگست 2026 کو نجی نشریاتی ادارے کے ایک ٹی وی پروگرام میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ خان نے رمیز راجہ پر سخت تنقید کی۔
افنان اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو رمیز راجہ کے خلاف ایکشن لینا چاہیے اور وہ خود بھی اس حوالے سے خط لکھیں گے۔
ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ رمیز راجہ جہاں بھی پاکستان کی نمائندگی کے لیے جاتے ہیں، وہاں عمران خان کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔
افنان اللہ نے کہا کہ کمنٹیٹر کو کرکٹ کے پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے رمیز راجہ کو انتہائی سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انڈیا، برطانیہ اور آئی سی سی کی مبینہ خوشامد کا بھی الزام عائد کیا۔
یہ بیان 30 اگست کی رات تقریباً 12:24 بجے شائع ہونے والی رپورٹ میں سامنے آیا، تاہم رپورٹ کے مطابق گفتگو 29 اگست کو ہوئی تھی۔
فواد چوہدری میدان میں آگئے
افنان اللہ کا بیان سامنے آنے کے بعد معاملہ صرف رمیز راجہ تک محدود نہ رہا۔ 30 اگست 2026 کو سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر افنان اللہ اور مسلم لیگ ن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
فواد چوہدری نے افنان اللہ کے مطالبے کو طنزیہ انداز میں پیش کرتے ہوئے لکھا کہ اگر مسلم لیگ ن کی منطق کے مطابق رمیز راجہ کو بند کرنا چاہیے تو پھر 'سارے انٹرنیشنل میڈیا کو بھی بند کردینا چاہیے۔
انہوں نے اپنے سیاسی طنز میں یہ بھی کہا کہ ملک کے تقریباً 85 فیصد ووٹرز، جنہوں نے بیلٹ کے ذریعے انہیں مسترد کیا، انہیں بھی بند کردینا چاہیے۔
فواد چوہدری نے مزید طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے حکومت ملک کو 'قبرستان' بنا کر اقتدار اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ اب معاملہ رمیز راجہ سے نکل کر براہِ راست فواد چوہدری بمقابلہ افنان اللہ بن چکا تھا۔
افنان اللہ کا فواد چوہدری کو انتہائی سخت جواب
30 اگست 2026 کو افنان اللہ نے فواد چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے انتہائی سخت اور ذاتی زبان استعمال کی۔
انہوں نے پوسٹ کا آغاز 'بکواس بند کرو ڈبو' سے کیا اور اس کے بعد فواد چوہدری کے خاندانی پس منظر اور مبینہ انگریز نوازی کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے فواد چوہدری پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ سیاسی طور پر غیر مؤثر ہوچکے ہیں اور پی ٹی آئی میں بھی انہیں قبول نہیں کیا جاتا۔
افنان اللہ نے اسی پوسٹ میں فواد چوہدری پر قوم کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پاکستان کے مذہبی مزاج کا حوالہ بھی دیا۔ یعنی جواب اب سیاسی تنقید سے نکل کر ذاتی، خاندانی اور برادری سے متعلق حملوں تک پہنچ گیا۔
واضح رہے کہ افنان اللہ اور فواد چوہدری کی کشیدگی بالکل نئی نہیں۔ افنان اللہ اس سے پہلے بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ سخت سیاسی اور ٹی وی مباحثوں میں سامنے آچکے ہیں۔
مئی 2023 میں جب فواد چوہدری گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے، افنان اللہ نے سوشل میڈیا پر ان پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ لگتا ہے فواد چوہدری بھی جلد پی ٹی آئی سے لاتعلقی کا اعلان کردیں گے۔
سینیٹر افنان اللہ کا نام 2023 میں ایک اور انتہائی متنازع ٹی وی واقعے کی وجہ سے بھی نمایاں ہوا تھا، جب 27 ستمبر 2023 کو ایک لائیو پروگرام میں ان کا پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت سے جسمانی جھگڑا ہوگیا تھا۔ اس واقعے میں افنان اللہ نے مروت کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی تھی۔







