اسامہ کیسے لاپتہ ہوئے؟

محمد اسامہ میاں خان کے مطابق یہ واقعہ سنہ 2005 میں پیش آیا، جب وہ گجرات میں اپنے گھر سے والدہ کے دیے ہوئے پیسوں سے کوئی چیز خریدنے نکلے تھے۔

اسامہ کے مطابق وہ راستہ بھٹک گئے اور پھر انہیں یاد نہیں کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔

اسی دوران وہ اسلام آباد کے ایک ایدھی سینٹر پہنچ گئے، جہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد انہیں ملتان منتقل کیا گیا، جب کہ چند ماہ بعد کراچی بھیج دیا گیا۔

اسامہ نے 22 سال کہاں گزارے؟

کراچی پہنچنے کے بعد اسامہ نے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے ایک فیکٹری میں ملازمت اختیار کی، جہاں تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرتے رہے۔ فیکٹری ہی ان کی رہائش بھی بن گئی۔ وہ وہیں رہتے، کام کرتے اور اپنی تنہا زندگی گزارتے رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان برسوں میں نہ کبھی عید اپنے کسی عزیز کے ساتھ منائی، نہ کسی خوشی یا غم کی تقریب میں شریک ہوئے، کیونکہ ان کے پاس کوئی اپنا موجود نہیں تھا۔

اس دوران اسامہ نے کن مشکلات کا سامنا کیا؟

سماجی کارکن ولی اللہ معروف کے مطابق جب اسامہ پہلی مرتبہ ان کے پاس آئے تو وہ تقریباً دس منٹ تک مسلسل روتے رہے۔ ان کے بقول اسامہ شدید تنہائی کا شکار تھے اور برسوں تک انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کا خاندان زندہ ہے یا نہیں۔

انہوں نے اپنی پوری جوانی اپنے اہل خانہ سے دور، صرف کام کرتے ہوئے گزاری اور ایک عام سماجی زندگی سے بھی محروم رہے۔

خاندان تک پہنچنے کی کوشش کیسے شروع ہوئی؟

ولی اللہ معروف پہلے بھی کئی لاپتہ افراد کو ان کے خاندانوں سے ملا چکے تھے۔ جب اسامہ نے دیکھا کہ ان جیسے دوسرے افراد اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اپنی کہانی ولی اللہ معروف کو سنائی اور مدد طلب کی۔

اس کے بعد ان کی معلومات اور شناختی نشانات کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی۔

ولی اللہ معروف کے مطابق پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ بعد ازاں دوبارہ پوسٹ کی گئی، جس کے بعد کچھ ایسے افراد سامنے آئے جنہوں نے اسامہ کے خاندان تک پہنچنے میں مدد دی۔

اسامہ کی شناخت کیسے ممکن ہوئی؟

تحقیقات اور سوشل میڈیا مہم کے دوران اسامہ نے اپنی چند دھندلی یادیں اور جسم پر موجود شناختی نشانات بتائے۔ان میں ہاتھ پر زخم کا نشان، ٹھوڑی پر پرانا نشان، سر پر ایک نشان

کانوں کی مختلف ساخت، گھر کے صحن میں موجود شاہ توت کا درختاور گھر میں پالے گئے خرگوش کی یاد شامل تھے۔ انہی معلومات کی بنیاد پر خاندان نے اسامہ کی شناخت کی تصدیق کی۔

خاندان کو ابتدا میں کیوں یقین نہیں آیا؟

22 سال گزر جانے کے باعث خاندان کے بعض افراد کو ابتدا میں خدشہ تھا کہ کہیں یہ فراڈ نہ ہو۔ خاص طور پر والدہ اور بھائی اس بات پر مطمئن نہیں تھے کہ سامنے آنے والا شخص واقعی ان کا کھویا ہوا بیٹا ہی ہے۔

ولی اللہ معروف کے مطابق مسلسل رابطوں، مزید معلومات اور شناختی شواہد کے بعد یہ شبہات دور ہوئے۔

ڈاکٹر ثمن راؤ نے کیا کردار ادا کیا؟

اسامہ کی خالہ زاد بہن ڈاکٹر ثمن راؤ کو جب سوشل میڈیا کے ذریعے اس معاملے کا علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر ولی اللہ معروف سے رابطہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف اسامہ کو اپنانے کا فیصلہ کیا بلکہ پورے خاندان کو بھی اعتماد میں لیا۔

ڈاکٹر ثمن کے مطابق اگرچہ خاندان کو ابتدا میں کچھ تحفظات تھے، لیکن انہوں نے یہی مؤقف اختیار کیا کہ خون کا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔

والد اسامہ کی واپسی کیوں نہ دیکھ سکے؟

ڈاکٹر ثمن راؤ کے مطابق اسامہ کے والد تقریباً 11 سال قبل انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وفات سے قبل بھی اسامہ کے والد بار بار اپنے بڑے بیٹے کو یاد کرتے تھے اور خواہش ظاہر کرتے تھے کہ ایک بار اپنے بیٹے سے مل سکیں۔ لیکن قسمت نے انہیں یہ موقع نہ دیا۔

خاندان نے اسامہ کو کیسے پہچانا؟

ڈاکٹر ثمن کے مطابق ایک دن ان کے دوستوں اور والدہ نے سوشل میڈیا پر موجود پوسٹ انہیں بھیجی۔جیسے ہی تصویر دیکھی گئی، ان کی والدہ اور نانی نے فوراً کہا کہ یہی اسامہ ہے۔

بعد ازاں مزید معلومات ملانے کے بعد خاندان کو یقین ہو گیا کہ یہی ان کا برسوں پہلے لاپتہ ہونے والا بیٹا ہے۔

22 سال بعد ملاقات کیسے ہوئی؟

ڈاکٹر ثمن راؤ نے لاہور کے گلبرگ میں ایک ہوٹل میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔ تقریب میں اسامہ کی والدہ، نانی، خالہ، بہنیں اور دیگر قریبی رشتہ دار موجود تھے۔

جب اسامہ تقریب میں پہنچے تو اہل خانہ نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، ہار پہنائے اور انہیں گلے لگا لیا۔ یہ منظر جذبات سے بھرپور تھا، جہاں کئی افراد برسوں بعد اپنے آنسو نہ روک سکے۔

اسامہ نے اس لمحے کے بارے میں کیا کہا؟

اسامہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ دوبارہ اپنے خاندان سے مل سکیں گے۔ انہوں نے اس ملاقات کا سہرا ولی اللہ معروف، ڈاکٹر ثمن راؤ اور ان کی والدہ کو دیتے ہوئے کہا کہ انہی لوگوں کی کوششوں سے آج وہ اپنے گھر والوں کے درمیان موجود ہیں۔

ملاقات کے بعد کیا ہوا؟

تقریب کے اختتام پر سب نے ایک ساتھ کھانا کھایا۔ جب کسی نے اسامہ سے پوچھا کہ اب وہ کہاں جائیں گے تو ان کی والدہ نے فوراً جواب دیا کہاں جائے گا؟ اپنے گھر ہی جائے گا، ہمارے ساتھ۔

اس کے بعد اسامہ کی دونوں بہنوں نے ان کا ہاتھ تھاما، انہیں گاڑی میں بٹھایا اور 22 برس بعد آخرکار وہ اپنے گھر روانہ ہو گئے۔

دوسری جانب سماجی کارکن ولی اللہ معروف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے کئی لاپتہ افراد موجود ہیں جنہیں جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور عوامی تعاون کے ذریعے دوبارہ ان کے خاندانوں سے ملایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ لوگ آگے بڑھ کر تعاون کریں۔