غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سونا 4 ہزار 439.31 ڈالر فی اونس پر آگیا۔ کاروبار کے دوران سونے کی قیمت 19 اگست کے بعد کی کم ترین سطح تک بھی گر گئی۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے جمعے کے روز بھی عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 3 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ مسلسل دو کاروباری سیشنز میں کمی کے بعد سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی اور شرح سود سے متعلق فیصلے پر مرکوز ہیں۔

ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت پر سب سے بڑا دباؤ اس وقت امریکی شرح سود سے متعلق توقعات ڈال رہی ہیں۔ اگر امریکی مرکزی بینک شرح سود میں اضافے کا عندیہ دیتا ہے تو سرمایہ کار سونے کے بجائے ایسے مالیاتی اثاثوں کو ترجیح دے سکتے ہیں جہاں انہیں بہتر منافع یا سود حاصل ہونے کی توقع ہو۔

سونا عام طور پر ایسے وقت میں محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے جب عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہو، افراط زر میں اضافہ ہو یا مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے۔ تاہم سونے کی اپنی کوئی باقاعدہ شرح منافع یا سود نہیں ہوتا، اس لیے شرح سود بڑھنے کی صورت میں اس کی نسبتاً کشش کم ہوسکتی ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی جانب سے بھی مہنگائی کے حوالے سے محتاط اور نسبتاً سخت پالیسی کے اشاروں کو سونے کی قیمت میں حالیہ کمی کی ایک اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جیکسن ہول اقتصادی سمپوزیم میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر افراط زر کے 2 فیصد ہدف کی جانب پیش رفت کے حوالے سے مطلوبہ اعتماد پیدا نہ ہوا تو مرکزی بینک کو مزید اقدامات پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

مارکیٹ میں اس وقت ستمبر میں امریکی شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 60 فیصد کے قریب دیکھے جا رہے ہیں۔ شرح سود سے متعلق توقعات میں تبدیلی براہ راست امریکی ڈالر اور بانڈ ییلڈز پر اثر ڈالتی ہے، جبکہ ڈالر اور بانڈ مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیاں عالمی سطح پر سونے کی قیمت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے اہم عنصر بن گئی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے اور تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں، جس کے باعث مرکزی بینکوں کے لیے شرح سود سے متعلق فیصلے مزید اہم ہوجاتے ہیں۔ سرمایہ کار اسی وجہ سے امریکا کے معاشی اعداد و شمار، افراط زر کے اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے حکام کے بیانات کو انتہائی قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ آنے والے دنوں میں سونے کی سمت کا تعین بڑی حد تک امریکی شرح سود، ڈالر کی قدر، بانڈ ییلڈز اور مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال سے ہوگا۔ اگر شرح سود میں اضافے کے امکانات مزید مضبوط ہوئے تو سونے کی قیمت پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ یا شرح سود کے حوالے سے نرم پالیسی کے اشارے سونے کی طلب میں دوبارہ اضافہ کرسکتے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا اثر مقامی مارکیٹوں پر بھی پڑتا ہے، تاہم پاکستان میں سونے کے نرخ عالمی قیمت کے ساتھ ساتھ ڈالر اور روپے کی شرح تبادلہ اور مقامی طلب و رسد سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے عالمی منڈی میں سونے کی قیمت کم ہونے کے باوجود مقامی مارکیٹ میں کمی کی شرح مختلف ہوسکتی ہے۔