عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں انڈیا کو غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک پن بجلی منصوبے پر سرگرمیاں محدود کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، جب کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر جولائی 2027 تک یہ فیصلہ کرے گا کہ ہمالیائی خطے میں زیر تعمیر پن بجلی منصوبے سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق ہیں یا نہیں۔
عدالت کے مطابق سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان مکمل طور پر نافذ ہے اور انڈیا کے پاس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کی کوئی قابل قبول قانونی بنیاد موجود نہیں۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ معاہدے کے تحت دریائے سندھ کے نظام سے متعلق طے شدہ قانونی فریم ورک پاکستان اور انڈیا دونوں کے لیے لازم ہے۔
یہ معاملہ دریائے سندھ کے نظام کے مغربی دریاؤں پر انڈیا کے پن بجلی منصوبوں سے متعلق پاکستان اور انڈیا کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کا حصہ ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے دریائے جہلم، چناب اور سندھ کے معاون دریاؤں پر بنائے جانے والے منصوبے پانی کے بہاؤ اور پاکستان کے آبی حقوق کو متاثر کرسکتے ہیں۔
ثالثی عدالت نے اس سے قبل بھی سندھ طاس معاہدے کی تشریح سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی تائید کی تھی۔ اگست 2025 میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ انڈیا کو مغربی دریاؤں کا پانی معاہدے میں طے شدہ شرائط کے مطابق پاکستان کی جانب بہنے دینا ہوگا اور معاہدے کے تحت انڈین پن بجلی منصوبوں پر مخصوص پابندیاں لاگو ہوتی ہیں۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ انڈیا کی جانب سے دریائے سندھ کے مغربی دریاؤں پر بنائے جانے والے پن بجلی منصوبوں کو سندھ طاس معاہدے میں مقرر کردہ شرائط کے مطابق ہونا چاہیے۔ انڈیا ان دریاؤں پر ’رن آف دی ریور‘ طرز کے پن بجلی منصوبے تعمیر کرسکتا ہے، تاہم ایسے منصوبوں کو پانی کے قدرتی بہاؤ یا ذخیرے میں اس حد تک تبدیلی کی اجازت نہیں کہ پاکستان کے آبی حقوق متاثر ہوں۔
سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی معاونت سے طے پایا تھا۔ اس معاہدے پر اس وقت کے انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستان کے صدر ایوب خان نے دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے تحت دریائے راوی، ستلج اور بیاس سمیت تین مشرقی دریاؤں پر انڈیا کو بنیادی حقوق دیے گئے جبکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب سمیت تین مغربی دریاؤں کے پانی پر پاکستان کے حقوق تسلیم کیے گئے۔
معاہدے کے تحت انڈیا کو مغربی دریاؤں پر محدود نوعیت کے پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کی اجازت ہے، تاہم ان منصوبوں کے لیے سخت تکنیکی شرائط مقرر کی گئی ہیں تاکہ پانی کے بہاؤ میں ایسی تبدیلی نہ آئے جو پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو۔
کشن گنگا اور رتلے منصوبے تنازع کا مرکز
پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع بنیادی طور پر انڈیا کے دو پن بجلی منصوبوں، کشن گنگا اور رتلے، کے ڈیزائن سے متعلق ہے۔
کشن گنگا منصوبہ دریائے جہلم کے ایک معاون دریا پر قائم کیا گیا ہے جبکہ رتلے پن بجلی منصوبہ دریائے چناب کے نظام میں زیر تعمیر ہے۔ پاکستان نے دونوں منصوبوں کے ڈیزائن کے بعض پہلوؤں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان سے سندھ طاس معاہدے کی شرائط متاثر ہوسکتی ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ مغربی دریاؤں کے پانی پر اس کا انحصار انتہائی زیادہ ہے اور ان دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے براہ راست اثرات زرعی پیداوار، خوراک کی دستیابی اور ملکی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
سندھ طاس دریا نظام پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج پر مشتمل یہ نظام ملک میں آبپاشی، زراعت اور لاکھوں افراد کے روزگار کے لیے بنیادی ذریعہ ہے۔
پاکستان کی محدود پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں اچانک کمی یا موسمی تبدیلیاں بھی ملک کے لیے بڑے خطرات پیدا کرسکتی ہیں۔ منگلا اور تربیلا سمیت بڑے ڈیموں میں موجود پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ملک کی مجموعی سالانہ آبی ضروریات کے مقابلے میں محدود ہے۔
انڈیا کے آبی حقوق بھی معاہدے میں شامل ہیں
سندھ طاس معاہدہ اگرچہ مغربی دریاؤں کے پانی پر پاکستان کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے، تاہم انڈیا کو بھی ان دریاؤں کے پانی کے محدود استعمال کی اجازت دیتا ہے۔
معاہدے کے تحت انڈیا کو جموں و کشمیر اور لداخ میں مخصوص رقبے پر آبپاشی کی اجازت حاصل ہے، جبکہ مغربی دریاؤں پر محدود مقدار میں پانی ذخیرہ کرنے اور ’رن آف دی ریور‘ بنیادوں پر پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔
تاہم ایسے منصوبوں کے لیے معاہدے میں واضح تکنیکی حدود مقرر ہیں اور انڈیا ان منصوبوں کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو مستقل طور پر روک یا اس میں ایسی تبدیلی نہیں کرسکتا جس سے پاکستان کے حقوق متاثر ہوں۔
بھارت نے معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیوں کیا؟
پاکستان اور انڈیا کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اپریل 2025 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔
انڈیا نے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، تاہم پاکستان نے انڈین الزامات کو مسترد کردیا۔ اس کے بعد انڈیا نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔
انڈیا کے اس اقدام کے بعد پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی ایک ملک یکطرفہ طور پر ایک بین الاقوامی معاہدے کو معطل نہیں کرسکتا اور سندھ طاس معاہدے کی حیثیت اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک دونوں ممالک باہمی رضامندی سے کوئی نیا فیصلہ نہ کریں۔
اسی تنازع کے تناظر میں پاکستان نے عالمی عدالت سے رجوع کیا اور معاہدے کے تحت پن بجلی منصوبوں سے متعلق بھارتی اقدامات پر قانونی وضاحت طلب کی۔
ثالثی عدالت نے اب قرار دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے اور انڈیا کے پاس اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔
عدالت نے پن بجلی منصوبوں سے متعلق معاملات پر مزید جائزے کے لیے عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر کے فیصلے کا راستہ بھی برقرار رکھا ہے، جو جولائی 2027 تک یہ طے کرے گا کہ متعلقہ منصوبے معاہدے کی شرائط کے مطابق ہیں یا نہیں۔
حکومت پاکستان کا ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم
حکومت پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو معاہدہ معطل کرنے کی اجازت نہیں اور وہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا پابند ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے فیصلے میں عبوری اقدامات جاری کیے ہیں، جبکہ عدالت کی جانب سے تاحال تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ متفقہ ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کرسکتا۔
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ عالمی قوانین کے تحت بھی بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اختیار حاصل نہیں، جبکہ معاہدہ نہ ختم ہوا ہے اور نہ ہی اس کے آپریشنز معطل ہوئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد کا پابند ہے اور معاہدے کے تحت پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن میں یکطرفہ طور پر تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔
حکومت پاکستان نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے اور پاکستان اس فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے۔
دوسری جانب انڈیا نے ثالثی عدالت کے تازہ حکم کو مسترد کرتے ہوئے اپنا مؤقف برقرار رکھا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا اس کا فیصلہ برقرار ہے۔
ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت پر جاری تنازع ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے استعمال اور پن بجلی منصوبوں سے متعلق اختلافات آئندہ بھی معاہدے کے تحت قانونی اور سفارتی مراحل سے گزرتے رہیں گے۔







