ایرانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ المنہاد ایئربیس پر کارروائی گزشتہ رات امریکی فورسز کی جانب سے ایران کے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے کے جواب میں کی گئی، امریکی کارروائی میں لارک جزیرے پر موجود ایران کے دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے کے جواب میں امریکی فوجی تنصیبات اور اہلکاروں سے متعلق متعدد مقامات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی بیان میں خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئربیس کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ وہاں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں اور فوجی اہلکاروں کے مقام کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے ایرانی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ المنہاد ایئربیس کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق میڈیا میں سامنے آنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ وزارت دفاع نے یہ وضاحت سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں دی۔
اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے اپنی حدود میں داخل ہونے والے ایک ڈرون کو روک لیا ہے۔ تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ ڈرون کو کہاں روکا گیا، اسے کس طریقے سے ناکام بنایا گیا یا آیا وہ کسی مخصوص ہدف کی جانب بڑھ رہا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم اس بات پر زور دیا کہ ملکی دفاعی نظام کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اماراتی حکام نے شہریوں اور ملک میں مقیم افراد سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی یا سکیورٹی صورتحال سے متعلق معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کو آگے پھیلانے سے گریز کریں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی فورسز کے خلاف جوابی کارروائیوں کے دعووں کے بعد خلیجی ممالک میں بھی سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اس سے قبل امریکی فورسز نے خلیج فارس میں واقع لارک جزیرے پر کارروائی کرتے ہوئے ایران کے دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے کے بعد ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی بیانات میں لارک جزیرے کا بار بار ذکر بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ لارک جزیرہ خلیج فارس میں واقع ہے اور ایران کے تیل کی برآمدات کے حوالے سے اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ جزیرے پر موجود تیل کی تنصیبات اور ٹرمینلز ایران کی خام تیل کی برآمدی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خطے میں جاری کشیدگی کے باعث خلیج فارس اور اس کے اطراف میں موجود اہم فوجی اور توانائی کی تنصیبات کی سکیورٹی بھی خاص اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ کسی بھی حملے یا سکیورٹی واقعے کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی صورتحال مزید کشیدہ ہوسکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے المنہاد ایئربیس پر حملے کے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دفاعی نظام کی جانب سے ایک ڈرون روکنے کی تصدیق کی ہے، تاہم اس واقعے اور ایرانی دعوے کے درمیان براہ راست تعلق کی تصدیق اماراتی حکام کی جانب سے نہیں کی گئی۔
صورتحال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات نے عوام کو محتاط رہنے، سرکاری اطلاعات پر اعتماد کرنے اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔







