بظاہر یہ لسانیات کا سوال ہے، لیکن پاکستان میں اس کا تعلق ثقافت، ادبی ورثے، مادری زبان کی شناخت، تعلیم اور علاقائی سیاسی نمائندگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔
پاکستانی گلوکارہ شانزے سیال اور محسن لاشاری کی جانب سے اس گیت کی پیش کردہ صورت کو انسٹاگرام پر غیر معمولی مقبولیت ملی۔ تاہم، یہ گیت نہ نیا ہے اور نہ ہی سرائیکی موسیقی کی روایت صرف اسی گیت تک محدود ہے۔ شفا اللہ خان روکھڑی سمیت متعدد فنکار اس سے پہلے بھی اسے پیش کرچکے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ جس زبان میں یہ گیت گایا جاتا ہے، اس کی شناخت کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ بولنے والے، لسانی ماہرین، ریاستی ادارے یا بین الاقوامی تنظیمیں؟
سرائیکی کو الگ زبان کہنے کی بنیاد کیا ہے؟
سرائیکی کو الگ زبان تسلیم کرنے کے حق میں سب سے اہم دلیل اس کے اپنے لسانی خدوخال ہیں۔ اس کا اپنا ذخیرۂ الفاظ، مخصوص صوتی نظام، قواعد، ادبی روایت، شاعری اور مختلف علاقائی لہجے ہیں۔ خواجہ غلام فرید کی کافیوں سے لے کر سرائیکی لوک موسیقی تک، اس زبان کا ایک وسیع ثقافتی اور ادبی سرمایہ موجود ہے۔
اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے سرائیکی لوک ادب سے متعلق تحقیقی منصوبے میں بھی سرائیکی اور پنجابی کے صوتی فرق کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق سرائیکی میں بعض ایسے صوتی حروف پائے جاتے ہیں جنہیں لسانیات میں اِمپلو سِوز کہا جاتا ہے اور جو پنجابی میں اسی طرح موجود نہیں۔ یہ صوتی فرق سرائیکی کو اس کے ہمسایہ لسانی نظاموں سے الگ شناخت دینے والی خصوصیات میں شامل ہے۔
یہ فرق محض الفاظ کے تلفظ تک محدود نہیں۔ ماہرین نے سرائیکی کے قواعد، فعل کی ساخت اور سندھ کی زبانوں کے ساتھ اس کی بعض لسانی مماثلتوں پر بھی تحقیق کی ہے۔
اس لیے سرائیکی کو صرف پنجابی کے عام علاقائی لہجوں میں سے ایک قرار دینا اس کے مخصوص لسانی خدوخال کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔

بعض ماہرین اسے پنجابی کی قسم کیوں قرار دیتے ہیں؟
دوسری رائے یہ ہے کہ سرائیکی اور پنجابی ایک دوسرے سے گہرا لسانی تعلق رکھتی ہیں اور دونوں کو وسیع تر پنجابی یا شمال مغربی ہند آریائی لسانی سلسلے کے اندر سمجھا جاسکتا ہے۔ اس نقطۂ نظر میں تاریخی تعلق، مشترک الفاظ، قواعد اور مختلف علاقوں میں بولیوں کے درمیان بتدریج تبدیلی کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لندن کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز (ایس او اے ایس) سے وابستہ معروف ماہرِ لسانیات کرسٹوفر شیکل نے اپنے تحقیقی کام میں سرائیکی کی جداگانہ شناخت کی تحریک، اس کی ادبی روایت اور پنجابی سے اس کے تعلق کا جائزہ لیا ہے۔
ان کی تحقیق یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ’زبان‘ اور ’لہجے‘ کے درمیان حد بندی جنوبی ایشیا میں طویل عرصے سے اختلاف کا موضوع رہی ہے۔
یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے: دو زبانوں میں الفاظ اور قواعد کی مماثلت اس بات کا خودکار ثبوت نہیں کہ ان میں سے ایک دوسری کا محض لہجہ ہے۔
اسی طرح دو زبانوں کے بولنے والوں کا ایک دوسرے کی بات کسی حد تک سمجھ لینا بھی ان کی الگ شناخت کو لازماً ختم نہیں کرتا۔ باہمی فہم، صوتیات، قواعد، تاریخی ارتقا، ادبی روایت اور بولنے والوں کی اپنی شناخت، سب اس بحث میں اہم ہیں۔
عالمی لسانی ادارے اسے کیسے درج کرتے ہیں؟
عالمی سطح پر زبانوں کی شناخت کے لیے مختلف نظام استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں آئی ایس او 639-3 بھی شامل ہے، جو زبانوں کو منفرد شناختی کوڈ فراہم کرتا ہے۔
اس نظام میں سرائیکی کا الگ کوڈ ایس کے آر (skr) ہے۔ لسانی معلومات کے معتبر ڈیٹا بیس گلوٹولوگ میں بھی سرائیکی کو الگ اندراج حاصل ہے، جب کہ اس کی درجہ بندی کے تحت اس کی تاریخی اور لسانی وابستگیوں پر مزید تفصیلات دی گئی ہیں۔
واضح رہےکہ کسی زبان کا الگ کوڈ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے اس نظام میں الگ شناخت دی گئی ہے، لیکن یہ ثبوت اس بات کا نہیں کہ دنیا کے تمام ماہرین اس کی درجہ بندی پر متفق ہیں یا اس کے پنجابی سے تعلق کی ہر تشریح رد ہوچکی ہے۔

پاکستان کی مردم شماری کیا بتاتی ہے؟
پاکستان میں سرائیکی کی الگ شناخت کا ایک واضح سرکاری ثبوت مردم شماری ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی 2023 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 88 لاکھ 40 ہزار افراد نے سرائیکی کو اپنی مادری زبان بتایا۔ یہ ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 12 فیصد بنتا ہے۔
اسی مردم شماری میں پنجابی کو بھی الگ درج کیا گیا، جسے تقریباً 36.98 فیصد آبادی نے اپنی مادری زبان بتایا۔
یہ اعداد اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی سرکاری شماریاتی درجہ بندی میں سرائیکی اور پنجابی الگ مادری زبانوں کے طور پر شمار ہوتی ہیں۔
لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ مردم شماری بنیادی طور پر لوگوں کی جانب سے بتائی گئی مادری زبان کی شناخت ریکارڈ کرتی ہے؛ یہ بذاتِ خود زبانوں کے تاریخی یا تقابلی لسانی رشتے کا حتمی فیصلہ نہیں کرتی۔
زبان کی شناخت اور سیاست کا تعلق
سرائیکی کی شناخت پر بحث کو پاکستان کی علاقائی سیاست سے الگ کرکے بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ جنوبی پنجاب میں سرائیکی زبان، ثقافت اور تاریخی شناخت کے فروغ کی تحریک کے ساتھ الگ صوبے کا مطالبہ بھی وابستہ رہا ہے۔
اس مجوزہ صوبے کے لیے سرائیکستان اور جنوبی پنجاب کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، اگرچہ اس کی حدود کے بارے میں تمام حامیوں کی رائے یکساں نہیں۔
کرسٹوفر شیکل کی تحقیق سرائیکی تحریک کو زبان کی الگ شناخت اور اسے زیادہ سرکاری تسلیم شدگی دلانے کی کوشش کے طور پر بیان کرتی ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بحث محض الفاظ یا تلفظ کی نہیں، بلکہ اس سوال کی بھی ہے کہ کسی علاقے کی زبان کو تعلیم، ادب، میڈیا اور سرکاری سطح پر کتنی جگہ ملتی ہے۔
کسی زبان کی لسانی درجہ بندی کو کسی سیاسی مطالبے کے حق یا مخالفت میں خودکار دلیل نہیں بنانا چاہیے۔ الگ زبان ہونے سے الگ صوبہ لازماً ثابت نہیں ہوتا اور صوبے کے مطالبے پر اختلاف سے زبان کی لسانی خصوصیات ختم نہیں ہوجاتیں۔

’چھلڑے چھلڑے وال‘ کی مقبولیت ہمیں کیا بتاتی ہے؟
یہ گیت اس بحث کو عام سامعین تک پہنچانے کا ذریعہ بنا ہے۔ جب کوئی علاقائی گیت لاکھوں افراد تک پہنچتا ہے تو اس کے ساتھ صرف دھن اور آواز نہیں، بلکہ اس کے الفاظ، زبان اور ثقافتی پس منظر پر بھی توجہ بڑھتی ہے۔
سرائیکی بولنے والوں کے لیے یہ مقبولیت اپنی زبان اور ادبی روایت کو نمایاں کرنے کا موقع ہے۔ دوسری طرف، جو لوگ سرائیکی اور پنجابی کو ایک وسیع لسانی تسلسل کی باہم مربوط اقسام سمجھتے ہیں، وہ دونوں کے مشترک لسانی ورثے پر زور دیتے ہیں۔
اس بحث کو سمجھنے کے لیے نہ سرائیکی کی الگ شناخت کو محض سیاسی نعرہ قرار دینا کافی ہے، نہ ہی یہ دعویٰ درست ہوگا کہ بین الاقوامی اداروں نے تمام اختلافات ختم کرکے ایک حتمی فیصلہ دے دیا ہے۔
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ سرائیکی پنجابی سے کتنی ملتی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ اس کی اپنی لسانی خصوصیات، ادبی روایت اور بولنے والوں کی شناخت کو کس طرح سمجھا اور محفوظ کیا جائے۔ لسانی تحقیق اختلافات اور مماثلتوں کی وضاحت کرسکتی ہے، جب کہ زبان بولنے والوں کی شناخت اور ثقافتی ورثے کو سمجھنا بھی اس گفتگو کا لازمی حصہ ہے۔







