کیمپ کا مقصد کراچی کے کم آمدنی والے، گنجان آباد اور پسماندہ علاقوں کے رہائشیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر مریضوں کو مفت او پی ڈی، ادویات اور دیگر طبی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔
کیمپ کے دوران موتیا کے 40 سے زائد مریضوں کو آپریشن کے لیے منتخب کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق ان مریضوں کی سرجری اور امپورٹڈ لینس کی فراہمی مکمل طور پر مفت کی جائے گی۔
مریضوں کی بہتر نگہداشت اور علاج کی نگرانی کے لیے ہفتہ وار فالو اَپ وزٹس کا بھی انتظام کیا گیا ہے، تاکہ آپریشن سے قبل اور بعد میں طبی سہولیات کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔

انجمن طلباء اسلام پاکستان کے ترجمان کے مطابق شعبہ سماجی خدمت اور اے ٹی آئی رضاکاروں کے تعاون سے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم شفاء خانوں کو فعال کیا جا رہا ہے، تاکہ مستحق افراد کو بنیادی طبی سہولیات ان کے قریب فراہم کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: وہ غذائیں جو آپ کی ہڈیاں برباد کرسکتی ہیں، گھٹنے کمزور کرسکتی ہیں!
ترجمان نے مزید بتایا کہ انجمن کے زیر اہتمام کراچی بھر میں عنقریب ’ہونہار انجمن‘ پروگرام کے تحت مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریز، ڈیجیٹل اسکلز سینٹرز اور ڈسپنسریز قائم کرنے کے ساتھ مفت میڈیکل کیمپس کا باقاعدہ آغاز بھی کیا جائے گا۔
منتظمین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مستحق افراد کو طبی سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کے مواقع فراہم کرنا ہے۔







