اکیڈمی کے مطابق تینوں سائنس دانوں نے ایسے سالماتی ڈھانچے تخلیق کیے جن میں بڑے خلا موجود ہیں جن سے گیسیں اور دیگر کیمیائی مادے گزر سکتے ہیں۔ ان ڈھانچوں کو صحرا کی ہوا سے پانی حاصل کرنے، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے، زہریلی گیسوں کو محفوظ کرنے اور ماحول میں موجود دواؤں کے ذرات کو ختم کرنے جیسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نوبیل کمیٹی برائے کیمسٹری کے چیئرمین ہینر لنکے نے کہا کہ میٹل آرگینک فریم ورکس میں بے پناہ امکانات پوشیدہ ہیں جو مخصوص افعال کے حامل نئے مواد تیار کرنے کے لیے نئی راہیں کھولتے ہیں۔ کمیٹی کے رکن اولوف رامسٹروم کے مطابق یہ سالماتی ساخت ہیری پوٹر کی کردار ہرماینی گرینجر کے بیگ کی طرح ہے جو باہر سے چھوٹا مگر اندر سے بہت بڑا ہے۔

رچرڈ روبسن نے انیس سو اناسی میں تانبے کے مثبت آئنوں کو ایک چار بازوؤں والے سالمے کے ساتھ جوڑ کر اس میدان میں پہلا قدم رکھا۔ ان تجربات کے نتیجے میں ہیروں جیسی ساخت والے کرسٹل بنے جن میں خلا موجود تھا تاہم وہ غیر مستحکم تھے۔ بعد ازاں سوسومو کیٹاگاوا اور عمر یاگی نے ان ساختوں کو مضبوط اور پائیدار بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ کیٹاگاوا نے ان فریم ورکس کو لچک دار بنانے کا طریقہ دریافت کیا جبکہ یاگی نے ان کے ڈیزائن کو سائنسی اصولوں کے تحت بہتر بنانے کی راہ ہموار کی۔


ایم او ایف کی مدد سے گیسوں کو جذب کرنے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نے اسے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور خشک علاقوں میں پانی حاصل کرنے جیسے عملی استعمالات میں اہم بنا دیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 2024  میں کیمسٹری کا نوبیل انعام امریکی حیاتی کیمیا دان ڈیوڈ بیکر اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے سائنس دان ڈیمس ہسابس اور جان جمپر کو پروٹین ڈیزائن اور ساخت کی وضاحت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر دیا گیا تھا۔

2025 کے نوبیل انعامات کا سلسلہ سوموار کو طب کے انعام سے شروع ہوا جو میری ای برنکو، فریڈ ریمزڈیل اور ڈاکٹر شیمون ساکاگوچی کو مدافعتی نظام پر تحقیق کے اعتراف میں دیا گیا۔ منگل کو طبیعیات کا انعام جان کلارک، میشیل ای ڈیورے اور جان ایم مارٹینس کو کوانٹم ٹنلنگ کے شعبے میں تحقیق پر دیا گیا۔

واضع رہے کہ ادارے کے مطابق انعامات کی تقریب دس دسمبر کو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں منعقد ہوگی جو الفریڈ نوبیل کے یوم وفات کی مناسبت سے رکھی گئی ہے۔ الفریڈ نوبیل ایک سویڈش صنعت کار اور ڈائنامائٹ کے موجد تھے جنہوں نے اپنی وفات سے قبل ان انعامات کے قیام کے لیے وصیت کی تھی۔