اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جنگی صورتحال کے باعث حکومت نے ایک جانب پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور دوسری جانب اسمارٹ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کیے گئے، جس سے معیشت پر مزید دباؤ پڑا، پٹرول کی قیمت بڑھنے سے صرف گاڑی چلانے کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ اس کے اثرات اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ، صنعت اور مجموعی کاروباری سرگرمیوں تک پہنچتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران ریفائنریوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ بروقت بات چیت کرنی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ فروری میں ایران پر امریکی حملے کے فوری بعد بھی حکومت کو ریفائنریوں سے مشاورت کرنی چاہیے تھی تاکہ عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات کو پاکستان میں کم سے کم کیا جاسکے۔
حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ جب عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوا تو حکومت نے اس صورتحال سے اضافی آمدن حاصل کرنا شروع کردی، تاہم عالمی سطح پر قیمت کم ہونے کے باوجود اس کا مکمل فائدہ پاکستانی صارفین کو منتقل نہیں کیا گیا، اس کا براہ راست اثر صنعت اور عام شہری پر پڑا، جبکہ چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والا زیادہ تر متوسط طبقہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے خاص طور پر متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے شرح سود میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اسٹیٹ بینک سے متعلق اپنی پالیسی پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق شرح سود میں ایک فیصد کمی سے قومی خزانے اور معیشت کو سینکڑوں ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے، جبکہ جماعت اسلامی نے شرح سود میں مزید کمی کی تجویز بھی دی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسٹیٹ بینک کو خودمختاری حاصل ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ اگر ملک کے مالی معاملات کو چلانے والا ادارہ حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں تو پھر اس کی پالیسیوں اور فیصلوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت بینکنگ سیکٹر کے مفادات کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے باعث شرح سود میں خاطر خواہ کمی نہیں کر رہی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جب عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے جاگیردار طبقے سمیت بااثر طبقات پر ٹیکس عائد کرنے کی بات کی جاتی ہے تو حکومت اس پر مؤثر اقدامات نہیں کرتی، جبکہ عام شہری اور تنخواہ دار طبقہ مختلف ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ برداشت کر رہا ہے، چند مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کروڑوں عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکومتی اخراجات، سرکاری مراعات اور مبینہ کرپشن پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومتی معاملات میں شفافیت اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ضروری ہے، سرکاری وسائل کے استعمال اور بڑے اخراجات سے متعلق عوام کو مکمل وضاحت اور حساب دیا جانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن، آئی پی پیز اور ری گیسیفیکیشن پلانٹس کو دی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس پر بھی سوالات اٹھائے، توانائی کے شعبے میں ایسے اخراجات پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ بجلی اور پٹرول سمیت بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت جماعت اسلامی کی پیش کردہ تجاویز پر عمل درآمد کرے تو ان کے بقول قومی خزانے سے تین سے چار ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومتی اخراجات، غیر ضروری مراعات اور مختلف شعبوں میں ہونے والے اخراجات کو کم کیا جانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے، آئی پی پیز سے متعلق مسائل کے حل اور عوام کو سستی اشیائے ضروریہ کی فراہمی سمیت مختلف مطالبات سامنے رکھے ہیں، جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کا مقصد کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے بجائے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور 20 ستمبر سے لانگ مارچ کیا جائے گا، جماعت اسلامی کا احتجاج عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے اور تحریک کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف طبقات سے رابطے بھی کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسان اتحاد کے ساتھ جماعت اسلامی کا رابطہ ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بھی رابطہ برقرار ہے، پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے احتجاج کی حمایت کی ہے اور جماعت اسلامی بھی ان کے احتجاج کی حمایت کرتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا کوئی قابل عمل منصوبہ موجود ہے تو اس پر فوری بات چیت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے مناسب ورکنگ کے بغیر ریلیف پیکیج کا اعلان کیا، جس کے باعث اس کے ثمرات عوام کی بڑی تعداد تک نہیں پہنچ سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو خیرات یا عارضی ریلیف کے بجائے مستقل بنیادوں پر معاشی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے، پٹرولیم لیوی سمیت مختلف اضافی مالی بوجھ ختم کرکے عام شہری کو براہ راست ریلیف دیا جاسکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ 20 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ کے حوالے سے کہا کہ جماعت اسلامی راستے بند کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے طلبہ کے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ سے متعلق بھی کہا کہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ طلبہ کا ٹیسٹ







