رائٹرز کے مطابق سلیکون ویلی کے سب سے بڑے شہر سان ہوزے میں حکام مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور شہر کو اے آئی ٹیکنالوجی کے اہم مرکز کے طور پر ترقی دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مقامی آبادی کے ایک حصے کی جانب سے ڈیٹا سینٹرز کے نئے منصوبوں پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سان ہوزے کے حکام کا مؤقف ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹرز شہر کے لیے خاطر خواہ معاشی فوائد کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ شہر کے اندازے کے مطابق ہر نئی ڈیٹا سینٹر سہولت سے سالانہ 30 لاکھ سے 60 لاکھ ڈالر تک ٹیکس آمدنی حاصل ہوسکتی ہے، جسے پولیس، فائر سروسز، لائبریریوں، سڑکوں اور پارکس سمیت مختلف شہری سہولیات پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
گزشتہ سال سان ہوزے کی انتظامیہ نے بجلی فراہم کرنے والی کمپنی پی جی اینڈ ای کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان بھی کیا تھا، جس کا مقصد ڈیٹا سینٹرز جیسے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے بڑے صارفین کو بجلی کی فراہمی تیز کرنا تھا۔
تاہم شہر کے متعدد رہائشیوں اور ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صرف ٹیکس آمدنی کو بنیاد بنا کر ان منصوبوں کی منظوری نہیں دی جانی چاہیے، یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے کتنی بجلی اور پانی درکار ہوگا اور ان منصوبوں کے نتیجے میں مقامی آبادی پر اضافی اخراجات یا ماحولیاتی دباؤ تو نہیں بڑھے گا۔
مقامی گروپ ’آئی لو سان ہوزے‘ کی رہنما ایلینا ین کے مطابق ڈیٹا سینٹرز بنانے والی کمپنیوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مقامی وسائل کے استعمال کی حق دار کیوں ہیں اور کمیونٹی کو اس کے بدلے کیا فائدہ پہنچائیں گی۔ مقامی گروہوں نے نئے منصوبوں کی منظوری سے قبل عوامی سماعت، توانائی اور پانی کے استعمال سے متعلق شفاف معلومات اور صحت و ماحول پر ممکنہ اثرات کے تفصیلی جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔
سان ہوزے کے میئر میٹ مہان نے بھی رہائشیوں کے خدشات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مسئلہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر مکمل طور پر روکنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ان کی ترقی ذمہ دارانہ انداز میں ہو، شہریوں کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ آیا بڑے ڈیٹا سینٹرز ان کے بجلی کے اخراجات، پانی کے وسائل اور مجموعی معیارِ زندگی پر اثر انداز ہوں گے۔
دوسری جانب کیلیفورنیا میں ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی تعداد کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نئی قانون سازی بھی زیر غور ہے۔ گورنر گیون نیوسم کے سامنے ایسے متعدد بل موجود ہیں جن کا مقصد بڑے ڈیٹا سینٹرز کے توانائی اور پانی کے استعمال میں شفافیت بڑھانا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ان سہولیات کے لیے گرڈ میں ہونے والی اضافی سرمایہ کاری کا مناسب حصہ بڑے صارفین ادا کریں۔
کیلیفورنیا کے قانون سازوں نے ریاستی سینیٹ اور اسمبلی میں ڈیٹا سینٹرز سے متعلق متعدد اقدامات کی منظوری دی ہے۔ ان تجاویز میں بڑے بجلی صارفین کو گرڈ سے متعلق اخراجات میں اپنا حصہ ادا کرنے اور توانائی و پانی کے استعمال سے متعلق معلومات زیادہ واضح کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
ریاستی سینیٹر اسٹیو پیڈیلا، جو ان میں سے متعدد اقدامات کے مصنف ہیں، کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا کو اس معاملے میں قیادت کرنا ہوگی کیونکہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور مصنوعی ذہانت سے متعلق متعدد ادارے اسی ریاست میں قائم ہیں۔
ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے صرف بجلی اور پانی کا استعمال ہی نہیں بلکہ فضائی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ ماحولیاتی تنظیموں کے اتحاد نے رواں سال اپریل میں بے ایریا ایئر کوالٹی مینجمنٹ ڈسٹرکٹ سے ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والے ڈیزل بیک اپ جنریٹرز کی نگرانی مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ماحولیاتی گروہوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ ضوابط اس دور کے ہیں جب مصنوعی ذہانت سے وابستہ ڈیٹا سینٹرز کی موجودہ رفتار سے توسیع شروع نہیں ہوئی تھی۔ متعلقہ ماحولیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا موجودہ حفاظتی اقدامات میں مزید سختی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب ڈیٹا سینٹرز کی صنعت سے وابستہ گروپ ’ڈیٹا سینٹر کولیشن‘ کا کہنا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ ترقی کی حمایت کرتا ہے، تاہم مجوزہ قوانین میں ڈیٹا سینٹرز کو دیگر بڑے صنعتی اور تجارتی بجلی صارفین کے مقابلے میں الگ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صنعتی گروپ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سخت ضوابط سے سرمایہ کاری کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے اور ملازمتوں، ٹیکس آمدنی اور نئے منصوبوں کا رخ کیلیفورنیا کے بجائے دوسری ریاستوں کی طرف ہوسکتا ہے۔ اس گروپ کے ارکان میں گوگل، میٹا، اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں۔
یوں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے، لیکن ان مراکز کے لیے درکار بجلی، پانی اور دیگر بنیادی وسائل نے مقامی حکومتوں، رہائشیوں، ماحولیاتی گروہوں اور ٹیکنالوجی صنعت کے درمیان نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ کیلیفورنیا میں منظور شدہ قانون سازی اب گورنر گیون نیوسم کے فیصلے کی منتظر ہے، جنہیں رواں ماہ کے اختتام تک ان بلوں پر دستخط یا ویٹو کرنا ہوگا۔







