پولیس کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 25 زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال لایا گیا ہے، جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے، جبکہ پولیس لائنز کے قریب مزید نفری پہنچ گئی ہے۔
پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکے کے باعث مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا، جبکہ مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا اور دیوار بھی گر گئی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ دھماکے کی جگہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
دھماکے پر سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
راجہ پرویز اشرف نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی فوری مدد کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جمعہ کے مقدس روز انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، مل کر اس عفریت کو ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے دہشت گردی کے پس پردہ محرکات سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت دھماکے کے متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔







