غیر ملکی خبررساں ادارے ایران انٹرنیشنل کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے بارے میں فیصلہ وہ خود کریں گے۔ ایران کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور اب معاملہ ’آسان راستے یا مشکل راستے‘ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے منصوبوں سے تقریباً دستبردار ہوچکا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تہران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ پینٹاگون اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے تمام ضروری آپشنز موجود رہیں۔

ہیگستھ نے کہا کہ اگر ایران اپنے جوہری عزائم سے دستبردار نہ ہوا تو صدر کے پاس فوجی کارروائی سمیت مختلف راستے موجود ہوں گے،ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔

امریکی وزیر دفاع نے یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ کو مشرق وسطیٰ بھیجے جانے کے امکان پر کوئی حتمی جواب نہیں دیا اور کہا کہ ان کی ذمہ داری صدر کو زیادہ سے زیادہ ’فیصلہ سازی کی گنجائش‘ فراہم کرنا ہے۔

ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکی حملوں سے متاثر ہونے والی اپنی میزائل اور دیگر فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے اس عمل کو سست کردیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز میں کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور امریکی ناکہ بندی ’مضبوط‘ ہے، تاہم اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو اب بھی حملوں کا سامنا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتے کو آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ فارس نیوز نے جہاز کی شناخت ’اور ونسٹ‘ کے نام سے کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ امریکی حفاظتی حصار میں عمان کی جانب جا رہا تھا۔ تاہم امریکا کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو محفوظ بنانے اور خطے سے توانائی کی ترسیل بحال رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا ایک مقصد ایران کو تیل کی آمدنی سے محروم کرنا بھی ہے تاکہ تہران اپنی فوجی صلاحیتیں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ رواں ہفتے ایران کی سمندری راستے سے تیل کی ترسیل نہیں ہوگی اور ان کارگو سے تہران کو آمدنی بھی حاصل نہیں ہوگی۔

بیسنٹ نے امریکی کارروائی کو ایک وسیع تر دباؤ کی مہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پہلے فوجی کارروائی، پھر ناکہ بندی اور اب ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کا راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران قطر کے ذریعے امریکا کی جانب سے بھیجے گئے ایک نئے مذاکراتی منصوبے کا جائزہ لے رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران اب بھی مطالبہ کر رہا ہے کہ امریکا پہلے اپنی بعض یقین دہانیاں پوری کرے، جن میں پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی شامل ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ رابطوں کے باوجود جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔