اتوار کو ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ رشاد العلیمی نے اعلان کیا کہ حکومتی فورسز پورے ملک میں ریاست اور اس کے اداروں کی رِٹ بحال کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ یمن کی مسلح افواج، سیکیورٹی فورسز اور تمام اتحادی فوجی دھڑوں کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ یمن کے تمام علاقوں کو حوثیوں کے کنٹرول سے آزاد کروانے تک کارروائیاں جاری رکھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک یہ منصوبہ مکمل اور حتمی کامیابی حاصل نہیں ہوجاتی، تمام ریاستی ادارے مکمل الرٹ رہیں گے اور آپریشن جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے شمال مغربی حصے کے بیشتر علاقے اس وقت حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت، یعنی صدارتی قیادت کونسل کے زیرِ انتظام ہیں، جسے سعودی عرب کی بھی حمایت حاصل ہے۔ صدارتی کونسل نے صنعاء کا کنٹرول کھونے کے بعد عدن کو اپنا عارضی دارالحکومت مقرر کر رکھا ہے۔

یمنی مسلح افواج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق ہفتے کے روز یمنی فورسز نے حوثیوں کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 257 ٹارگٹڈ آپریشنز کیے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، میزائلز اور راکٹ لانچرز کا بھرپور استعمال کیا گیا۔

بیان کے مطابق یہ کارروائیاں دارالحکومت صنعاء، میدی، باقم اور الجوف، مارب، البیضا اور لحج کے محاذوں پر کی گئیں، تاہم تعز میں خاص طور پر حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، جنگجوؤں کے اجتماعات، قافلوں، گولہ بارود کے ڈپوز اور عسکری سپلائی لائنز کو نشانہ بنایا گیا۔

یمنی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق ان کارروائیوں میں کم از کم 700 حوثی جنگجو مارے گئے، جب کہ 170 جنگی گاڑیاں، اسٹریٹجک عسکری اہداف اور دیگر فوجی سازوسامان بھی تباہ کردیا گیا۔

اتوار کے روز جاری ایک اور بیان میں یمنی افواج کے ترجمان نے حوثیوں کے خلاف الباحہ اور تعز میں مزید 97 کارروائیوں کا دعویٰ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کے نتیجے میں حوثی ملیشیا کے 260 جنگجو ہلاک ہوئے، جب کہ ان علاقوں میں مزید جنگجوؤں کی کمک اور اسلحہ پہنچنے سے روکنے کے لیے ان کے زیرِ استعمال 44 فوجی گاڑیاں، دیگر گاڑیاں اور سپلائی کے ذرائع بھی تباہ یا متاثر کیے گئے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکومتی فورسز کی جوابی کارروائیوں کے باوجود حوثی زمینی محاذ پر پیش قدمی کررہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے آبنائے باب المندب کے قریب اہم مقامات پر قبضہ کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران حوثیوں نے یمن کے شہر تعز کے قریب اہم پہاڑی چوٹیوں پر حکومتی اور مقامی فورسز کے خلاف پیش قدمی کی ہے۔ حوثی اب تعز اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے عارضی دارالحکومت عدن کے درمیان موجود آخری اہم زمینی راستے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے تعز اور عدن کو ملانے والی سڑک پر کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں یمن کا تیسرا بڑا شہر تعز بھی حوثیوں کے محاصرے میں آسکتا ہے۔ سعودی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ رشاد العلیمی کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔

رائٹرز کے مطابق یمنی اتحادی فورسز کے حوثیوں کے خلاف اس بڑے آپریشن کے حوالے سے یہ طے ہوا تھا کہ زمینی محاذ پر یمنی فورسز لڑیں گی، جبکہ سعودی عرب فضائی معاونت فراہم کرے گا۔

سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کی تھی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں عرب اتحاد کی قیادت کی تھی۔ اسی خانہ جنگی کے دوران حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء سے حکومتی فورسز کو بے دخل کرکے اس کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

2022 میں فریقین کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کافی عرصے تک قائم رہی، تاہم رواں سال جولائی میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد یمن میں صورتحال ایک بار پھر بگڑ گئی ہے۔

یمن میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں، جب کہ لاکھوں افراد تک ضروری اشیاء اور امداد کی رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے حال ہی میں جاری ایک رپورٹ میں یمن کے بعض علاقوں میں ہر چار میں سے تین خاندانوں کے شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہونے کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔

یمن میں جاری لڑائی کے درمیان حکومتی فورسز کی جانب سے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے اعلان سے ملک میں ایک بار پھر وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔