امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے یہ دھمکی ایک فون انٹرویو کے دوران دی۔ ’فاکس نیوز‘ کے رپورٹر ٹرے ینگسٹ کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ اگر عمان راستے میں آیا تو ہم اس پر بم برسا دیں گے۔
امریکا اور عمان ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے الگ الگ مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے تقریباً چھ ماہ سے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند کر رکھا ہے، جس کے باعث اس کی بحالی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اہم موضوع بن چکی ہے۔
دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بحری آمدورفت کے راستے کے نقشے پر اتفاق ہوگیا ہے، جب کہ تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔
عمان آبنائے ہرمز کے جنوبی کنارے پر واقع ہے اور خود کو امریکا، ایران تنازع میں ایک غیر جانب دار ملک قرار دیتا ہے۔ تاہم ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران عمان کو بھی متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مزید پڑھیں: معاہدے کیخلاف ورزی پر امریکا کے ساتھ 60 روزہ مذاکراتی ڈیڈ لائن کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی، ایران
ٹرمپ نے اسی انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا کا ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے ساتھ براہِ راست بیک چینل رابطہ موجود ہے۔ تاہم آئی آر جی سی کے ترجمان نے امریکی صدر کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے حکام اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ امریکا سے مبینہ نقصانات کے ازالے سے بھی مشروط ہے۔
قبل ازیں ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا تھا کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے کارگو کی قیمت کا 5 سے 7 فیصد فیس کی صورت میں وصول کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔







