ایرانی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے 33ویں قومی نماز کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں نماز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نماز اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک، دین کا اہم ستون اور انسان کا اپنے خالق سے براہِ راست تعلق قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نماز نہ صرف فرد کی روحانی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ معاشرے کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے، نماز انسان کو امید، سکون، محبت اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد فراہم کرتی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ جہاد، جدوجہد اور مشکل حالات کے دوران نماز انسان کے لیے امید اور توکل کا اہم ذریعہ بنتی ہے، ایرانی قوم کو درپیش موجودہ حالات میں بھی نماز کا قیام روحانی استقامت اور کامیابی کے حصول میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ نماز کو صرف انفرادی عبادت تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ معاشرے میں اس کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششیں بھی ضروری ہیں، خاندانوں، اساتذہ، جامعات کے اساتذہ، مذہبی و ثقافتی شخصیات اور دیگر بااثر طبقات پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کو نماز کی جانب راغب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے مساجد اور نمازِ جماعت کے نظام کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ائمہ اور خطبا کو معاشرے میں لوگوں کے مسائل سننے اور ان کی رہنمائی کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے مطابق معاشرے میں نماز کا مضبوط نظام اسلامی معاشرے کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے، نماز کے فروغ اور اس پر اجتماعی توجہ کے ذریعے معاشرے میں روحانی اقدار کو مزید مضبوط کیا جاسکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور رحمت کے ذریعے ایرانی قوم اور ملک نماز کے قیام اور اس کی روحانی برکتوں سے مستفید ہونے میں کامیاب ہوں گے







