میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے ایران پر نئے حملوں کے لیے امریکی حکام سے رابطے کیے تھے، تاہم واشنگٹن نے مشترکہ فوجی کارروائی مستقبل میں کرنے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے فوری حملوں سے گریز کیا۔

ذرائع کے مطابق امریکا نے یہ فیصلہ اسرائیلی آرمی چیف کے ان خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا کہ ایران پر نیا حملہ اسرائیل میں انتخابات ملتوی ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے امریکی فیصلے کو قبول کر لیا، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ یمن میں سرگرم ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے اگر اسرائیل کی جانب میزائل حملے کیے تو اسے اپنے دفاع کے لیے امریکی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اسرائیل میں عام انتخابات کے لیے پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہو کر رات 10 بجے تک جاری رہے گی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی 120 نشستوں پر حکومت بنانے کے لیے کسی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ اپوزیشن کی نمایاں شخصیات میں سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ اور سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ شامل ہیں۔

7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ان انتخابات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو کو اقتدار برقرار رکھنے کے لیے سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق طویل جنگ اور اندرونی مسائل نے ان کی سیاسی پوزیشن کو متاثر کیا ہے۔