کمیشن کی نئی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا، جب کہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد نے بھی صورتِ حال کو مزید خراب کیا۔

رپورٹ میں اسرائیلی حکام اور فورسز پر اجتماعی قتل و ہلاکت، تشدد، ریپ، جنسی تشدد اور امتیازی بنیادوں پر ظلم و ستم جیسے جرائم کے ارتکاب کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے تشدد نے ایک وسیع اور منظم حملے کی شکل اختیار کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف علاقوں میں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات مربوط منصوبہ بندی اور ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔

کمیشن کے مطابق اسرائیلی حکام نے فلسطینی شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسی اختیار کی اور آبادکاروں کے تشدد کو بھی ان کارروائیوں کا حصہ بننے دیا۔

کمیشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مغربی کنارے میں فضائی حملوں کے نتیجے میں فلسطینی شہادتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 2008 سے 6 اکتوبر 2023 تک فضائی حملوں میں چھ فلسطینی شہید ہوئے، جب کہ 7 اکتوبر 2023 سے 30 ستمبر 2026 تک یہ تعداد 254 رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں فلسطینی شہریوں کی شہادتوں اور نقصان کا سبب بنتی رہیں۔

کمیشن کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جنگ بندی کے دوران غزہ میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کو تقریباً 53 فیصد سے بڑھا کر کم از کم 60 فیصد تک کر لیا۔ اس عرصے میں اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 196 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔

تحقیقاتی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی حکام اور فورسز غزہ میں فلسطینیوں کو بحیثیت گروہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے نسل کشی کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی کے سکیورٹی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق فلسطینی اتھارٹی مخالف مسلح گروہوں کے ارکان اور اختلافِ رائے رکھنے والے شہریوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔

رپورٹ میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں، شہادتوں اور زخمی ہونے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی مبینہ شہادتوں کی مؤثر، غیر جانب دار اور بروقت تحقیقات کرانے میں ناکام رہی ہے۔ رپورٹ کے اجرا کے وقت فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔

تحقیقاتی کمیشن نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں نسل کشی کے اقدامات ختم کرے، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی قبضہ ختم کرے۔

رپورٹ میں اسرائیلی بستیوں اور آبادکاروں کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے ہٹانے، فلسطینیوں کی ضبط شدہ زمین واپس کرنے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد کا احتساب یقینی بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

کمیشن نے فلسطینی اتھارٹی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرے اور اپنے سکیورٹی اداروں سے متعلق مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔

واضح رہے کہ یہ کمیشن اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2021 میں قائم کیا تھا۔ تاہم اس کے نتائج کو اقوامِ متحدہ کے تمام اداروں یا رکن ممالک کا متفقہ مؤقف نہیں سمجھا جا سکتا اور یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی جانی ہے۔

دوسری جانب جنیوا میں اسرائیلی مشن نے رپورٹ کو اسرائیل کے خلاف غلط معلومات پھیلانے اور ملک کو مجرمانہ ریاست کے طور پر پیش کرنے کی مہم قرار دیا ہے۔

اسرائیلی مشن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کمیشن کے نتائج کو مسترد کرے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کرے۔ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کی بھی تردید کرتا ہے۔