یہ کہانی صرف میری نہیں بلکہ اس وقت ملک کے ہر اس شہری کی ہے، جو مہنگے پیٹرول اور ڈیزل کا بوجھ برداشت کرتے کرتے نڈھال ہو چکا ہے۔
لیکن جہاں عام پاکستانی اپنی جیب خالی کر کے ایک ایک لیٹرپٹرول کے لیے پریشان تھا، بالکل اسی وقت ملک کی آئل ریفائنریوں اور ایندھن بیچنے والی کمپنیوں کے دفاتر میں زیادہ منافع کمانے کی خوشی میں جشن منائے جا رہے تھے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ جس دوران عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو رہی تھی، اسی عرصے میں پاکستان کی بڑی ریفائنریوں کے منافع میں ایک ہزار فیصد سے زیادہ کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ سب اس وقت شروع ہوا جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھا دی، دنیا کے بیس فیصد تیل کا راستہ بند ہوا تو عالمی منڈی میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں۔
پاکستان میں اس کا اثر یوں پڑا کہ کل تک 276 روپے میں ملنے والا پیٹرول اچانک 400 روپے کی سطح کو چھونے لگا۔ مہنگائی کی شرح سات فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد تک جا پہنچی، حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بدلنا شروع کیں، لیکن کہانی کا اصل موڑ تب آیا جب کمپنیوں کی مالیاتی رپورٹس سامنے آئیں۔
اٹک ریفائنری، جس نے پچھلے سال جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں 1.45 ارب روپے کمائے تھے، اس کا خالص منافع بڑھ کر 18.65 ارب روپے ہو گیا۔ یعنی ایک سال میں 1184 فیصد کا اضافہ!
نیشنل ریفائنری کا منافع 1.03 ارب سے چھلانگ لگا کر 11.57 ارب روپے (1029 فیصد اضافہ) ہو گیا، جبکہ پاکستان ریفائنری کا منافع 1.02 ارب سے بڑھ کر 13.97 ارب روپے (1274 فیصد اضافہ) تک پہنچ گیا۔
صرف یہی نہیں، تیل تلاش کرنے والی کمپنی پاکستان آئل فیلڈز اور اٹک پیٹرولیم نے بھی بالترتیب 51 اور 74 فیصد زیادہ منافع کمایا۔ ایک طرف خریدار رو رہا تھا اور دوسری طرف بیچنے والا اربوں سمیٹ رہا تھا۔ آخر ایسا کیسے ہوا؟
توانائی کے ماہرین سے بات کریں تو وہ اس غیر معمولی منافع کے پیچھے تین بڑی وجوہات بتاتے ہیں۔ سب سے بڑی وجہ 'کریک سپریڈ' یعنی خام تیل اور تیار پیٹرول کی قیمت کا فرق تھا۔ جنگ سے پہلے ریفائنری کا فی بیرل مارجن 12 سے 15 ڈالر تھا، جو جنگ کے بعد بڑھ کر ڈیزل پر 50 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔ یعنی خام تیل جتنا مہنگا ہوا، تیار پیٹرول اور ڈیزل اس سے کہیں زیادہ مہنگا بیچا گیا۔
دوسری وجہ تھی 'انوینٹری گین'۔ کمپنیوں کے پاس پرانی، کم قیمت پر خریدی گئی مصنوعات کا جو ذخیرہ پڑا تھا، قیمتیں بڑھتے ہی وہ راتوں رات سونے کے بھاؤ بکنے لگا۔
تیسری وجہ عالمی سپلائی چین کا بحران تھا، خلیجی ممالک سے ریفائنڈ ڈیزل کی فراہمی متاثر ہوئی جس نے عالمی سطح پر ڈیزل کو مہنگا کر دیا۔ اس کا پورا فائدہ مقامی ریفائنریوں کو ملا کیونکہ وہ خام تیل لا کر خود ریفائن کر رہی تھیں۔
اگرچہ حکومت نے ڈیزل کے منافع پر 41.89 ڈالر اور پھر 38 ڈالر فی بیرل کی حد (کیپ) مقرر کر کے زبانی جمع خرچ کرنے کی کوشش کی، پیٹرول پر ہفتے میں 500 روپے کا ریلیف پیکج حکومت کے کریڈٹ میں جاتا ہے لیکن ایسا مختصر ریلیف بھی ٹھیک سے عوام کی پہنچ میں نہیں رہا ، لیکن سچ یہ ہے کہ ریاست اس پورے بحران میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہونے کے بجائے ایک خاموش تماشائی بنی رہی۔
اصل سوال تو حکومت کی پالیسیوں اور نیت پر اٹھتا ہے۔ ایک طرف عالمی بحران کا بہانہ بنا کر نجی کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی کہ وہ تاریخی منافع کمائیں اور دوسری طرف خود حکومت نے پیٹرولیم لیوی اور ظالمانہ ٹیکسوں کی مد میں عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
جب عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، اس وقت بھی حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں ایک روپے کی رعایت دینا گوارا نہ کیا، بلکہ ہر لیٹر پر بھاری لیوی وصول کر کے اپنے مالیاتی خسارے پورے کرتی رہی۔
یہ کیسی عوامی حکومت ہے جو ایک طرف کارپوریٹ کمپنیوں کے اربوں روپے کے منافع پر آنکھیں بند کر لیتی ہے اور دوسری طرف غریب اور متوسط طبقے پر لیوی اور ٹیکسوں کا پہاڑ توڑ دیتی ہے؟
عوام کے لیے پیٹرولیم لیوی ایک ایسا اضافی بوجھ ثابت ہوئی جس نے انہیں سانس لینے تک کا موقع نہ دیا۔ سرکار چاہتی تو اپنے ٹیکسوں اور لیوی میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دے سکتی تھی، مگر حکمرانوں نے عوامی مفاد پر اپنے خزانے بھرنے کو ترجیح دی۔
نتیجتاً، آئل کمپنیاں اربوں کا منافع کما کر مسکراتی رہیں، حکومت اپنے ٹیکس اکٹھے کر کے اطمینان کی نیند سوتی رہی اور پسنے والا صرف اور صرف وہ عام پاکستانی تھا جس کی جیب خالی تھی اور چولہا ٹھنڈا۔







