لاطینی امریکا کے سب سے بڑے ملک برازیل کے یہ انتخابات ملکی سیاست، معیشت، ماحولیاتی پالیسی اور امریکا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

کون جیت سکتا ہے؟

برازیل میں 4 اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخاب میں فلیویو بولسونارو نے 47.03 فیصد درست ووٹ حاصل کیے، جب کہ موجودہ صدر لولا دا سلوا 45.16 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ کوئی بھی امیدوار مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکا، جس کے بعد مقابلہ دوسرے مرحلے تک پہنچ گیا۔

دوسرے مرحلے سے قبل جاری ہونے والے بعض انتخابی جائزوں میں فلیویو بولسونارو کو معمولی برتری حاصل تھی، تاہم دونوں امیدواروں کے درمیان فرق متعلقہ سرویز کی غلطی کی حد کے اندر تھا۔ اس لیے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر کسی ایک امیدوار کی جیت یقینی قرار نہیں دی جا سکتی۔

فلیویو بولسونارو سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے اور سینیٹر ہیں، جبکہ لولا دا سلوا 2023 سے ملک کے صدر ہیں اور دوبارہ انتخاب کے خواہاں ہیں۔ دونوں امیدواروں کی سیاسی ترجیحات اور ملک کے مستقبل کے بارے میں تصورات مختلف ہیں۔

برازیل میں انتخابات کب ہوتے ہیں؟

برازیل میں عام انتخابات ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں۔ ان انتخابات میں صدر اور نائب صدر کے علاوہ قومی کانگریس کے ارکان، ریاستی گورنروں اور ریاستی اسمبلیوں کے نمائندوں کا انتخاب بھی کیا جاتا ہے۔

2026 کے صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 4 اکتوبر کو ہوا، جبکہ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 25 اکتوبر کو مقرر ہے۔

برازیل میں صدر منتخب کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

برازیل میں صدارتی انتخاب دو مراحل میں ہو سکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں اگر کسی امیدوار کو درست ووٹوں کی نصف سے زیادہ تعداد حاصل ہو جائے تو وہ صدر منتخب ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی امیدوار یہ اکثریت حاصل نہ کر سکے تو سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان دوسرے مرحلے میں مقابلہ ہوتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں دونوں امیدواروں میں سے زیادہ درست ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے۔ اسی طریقۂ کار کے تحت 2026 میں لولا دا سلوا اور فلیویو بولسونارو کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے۔

ووٹنگ کیسے ہوتی ہے؟

برازیل میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے ووٹ ڈالے جاتے ہیں، جب کہ انتخابی عمل کی نگرانی سپیریئر الیکٹورل کورٹ (ٹی ایس ای) کرتا ہے۔

ملک میں 18 سے 70 سال کی عمر کے شہریوں کے لیے ووٹ ڈالنا لازمی ہے۔ 16 اور 17 سال کی عمر کے نوجوانوں اور 70 سال سے زیادہ عمر کے شہریوں کے لیے ووٹ ڈالنا اختیاری ہے۔

برازیل میں تقریباً 15 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز دوسرے مرحلے میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد الیکٹرانک نتائج کی گنتی کے ذریعے حتمی صورتِ حال سامنے آتی ہے۔

دونوں امیدواروں کی کامیابی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

لولا دا سلوا کی کامیابی کی صورت میں ان کی حکومت کو مزید چار سال ملیں گے، جب کہ فلیویو بولسونارو کی جیت سے ملک میں دائیں بازو کی سیاست کو نئی تقویت مل سکتی ہے۔

دونوں امیدواروں کے درمیان اختلافات سماجی بہبود، معیشت، جرائم کی روک تھام، ماحولیات اور خارجہ تعلقات جیسے معاملات پر بھی نمایاں ہیں۔ تاہم ان پالیسیوں پر عمل درآمد کا انحصار صرف صدر پر نہیں بلکہ قومی کانگریس اور دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون پر بھی ہوگا۔

حتمی فیصلہ ووٹرز کریں گے۔ پہلے مرحلے میں فلیویو بولسونارو آگے رہے تھے، لیکن دوسرے مرحلے کے نتائج سامنے آنے تک یہ کہنا ممکن نہیں کہ برازیل کا اگلا صدر کون ہوگا۔